فکر اسلامی
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
میں آپ نے مقرر فرمایا تھا کہ ہر گروہ کے مذہب یا قبائلی روایات کے مطابق ان کا جو دین ہے، وہ اس پر عمل کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔ کسی گروہ کے مذہب یا ان کی روایات میں ریاستی مداخلت نہیں کی جائے گی (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 503)۔ یہی ریاستی عدم مداخلت سیکولرزم کی اصل روح ہے۔ سیکولرزم کے کچھ پرجوش شارح اس کی جو کلی تشریح کرتے ہیں وہ ایک نظریاتی انتہا پسندی ہے، اور اس قسم کی انتہا پسندی ہر فکری نظام میں پائی جاتی ہے۔ اس سے قطع نظر، عملی سیکولرزم صرف اس کا نام ہے کہ حکومت کا تعلق مشترک مادی امور سے ہو، اور مذہبی معاملات میں وہ عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی پر کاربند رہے۔ کسی مشترک سماج میں یہی واحد قابل عمل طریقہ ہے، اور متعلقہ حالات میں یہی اسلام کا تقاضا بھی ہے۔ جہاد کا مسئلہ موجودہ زمانہ میں ایک نہایت اہم مسئلہ جہاد کی تعبیر کا ہے۔ جہاد کو عام طور پر جنگ کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے مگر یہ صحیح نہیں۔ جہاد کے معنی وہی ہیں جس کو ہم اپنی زبان میں جدوجہد (struggle) کہتے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ ہر جگہ دینی جدوجہد یا دعوتی جدوجہد کے معنی میں ہے۔ جنگ کے لیے قرآن میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ قتال ہے، نہ کہ جہاد۔ جہاد جب سادہ طور پر دینی کوشش یا دینی جدوجہد کے معنی میں ہو تو حالات کے اعتبار سے اس کا انطباق صرف ایک نہیں رہے گا، بلکہ فطری طور پر متعدد ہو جائے گا۔ مثلاً حدیث میں اپنے نفس سے لڑ کر اسے زیر کرنے کو جہاد کہا گیا ہے (الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 23958۔ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد کا ایک پہلو نفسیاتی جہاد ہے۔ قرآن میں دعوت اسلامی کی فکری توسیع کی کوششوں کو جہاد کہا گیا ہے: وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَاداً كَبِيراً (25:52)۔ یعنی ، اور اس (قرآن) کے ذریعہ سے ان کے ساتھ بڑا جہاد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader