Urdu book · فکر اسلامی

بینک کا مسئلہ

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

خانہ میں ہونے والی ایک بڑی میٹنگ میں اپنا یہ فتوی پیش کیا کہ بینک انٹرسٹ میں کوئی برائی نہیں ہے اور وہ اسلام سے بہت قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک کا قرض اگر کسی معقول ضرورت کے لیے لیا جارہا ہے تو وہ حلال ہے۔ بینک کے لیے اس قسم کے قرضوں پر انٹرسٹ لینے کو بھی انھوں نے جائز بتایا۔ یہ ایک بے حد نزاعی مسئلہ ہے۔ راقم الحروف اس معاملہ میں کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتا۔ موجودہ زمانہ صنعتی زمانہ ہے۔ اور جدید صنعت صرف بینک ہی کی بنیاد پر چل سکتی ہے۔ ابھی تک اس کا کوئی حقیقی بدل سامنے نہیں آسکا۔ یہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے مسلمان موجودہ زمانہ کی صنعتوں میں بہت زیادہ پیچھے ہو گئے ہیں۔ صنعتی پچھڑے پن کا نتیجہ دوسرے اکثر میدانوں میں ان کا دنیا سے پیچھے ہو جانا ہے۔ مثال کے طور پر صحافت ــ موجودہ زمانہ میں صحافت کو ایک نہایت طاقتور ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر مسلمانوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی کوئی صنعت نہیں۔ صحافت کو صنعت ہی سے غذا ملتی ہے۔ جس قوم میں صنعت نہ ہو اس کی صحافت بھی نہیں ہوسکتی۔ اس معاملہ میں مسلمان اپنی اسی کمی کا شکار ہورہے ہیں۔ یہ معاملہ ایک اجتہاد طلب معاملہ ہے۔ تاہم کسی شخص کا انفرادی اجتہاد اس معاملہ میں کافی نہیں ہے۔ اجتماعی نہیں تو کم از کم قابل لحاظ تعداد کے علما کو اس معاملہ میں اپنی مشترک اجتہادی رائے پیش کرنا چاہیے۔ یہ مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ کہ راقم الحروف کا خیال ہے کہ اگر مسلم ملکوں کے پاس پٹرول کی قدرتی دولت نہ ہوتی تو اب تک وہ دورِ جدید کے اقتصادی یرغمال بن چکے ہوتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page