اجتہاد جاری ہے
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتہاد جاری ہے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اجتہاد (اجتہاد مطلق) کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ چوتھی صدی ہجری کے بعد اب کسی کو اجتہاد کرنے کی اجازت نہیں۔ مگر یہ کوئی تحقیقی بات نہیں۔ محقق علما نے کبھی اس کی تائید نہیں کی۔ دورِ اول سے لے کر اب تک کثیر تعداد میں ایسے علما پیدا ہوئے جنھوں نے کھلے طور پر اس کا اعلان کیا کہ اجتہاد کا عمل ایک مستقل عمل ہے اور وہ امت میں ہمیشہ جاری رہے گا۔ مثلاً ابن تیمیہ، السیوطی، ابن خلدون، عزالدین ابن عبدالسلام، الشاطبی، الشوکانی، المراغی، ہندوستان میں مولانا اشرف علی تھانوی، وغیرہ۔ بحرالعلوم عبدالحلی حنفی نے لکھا ہے کہ کچھ لوگوں کا قول ہے کہ اجتہاد مطلق صرف ائمہ اربعہ تک تھا، اب وہ ختم ہو گیا (اُختُتِمَ بِالأَئِمَّةِ الأَرْبَعَةِ)۔ مگر یہ سب محض بے عقلی کی باتیں ہیں جس پر وہ کوئی دلیل نہیں دے سکتے ہیں۔ وَهَذَا كُلُّهُ هَوَبْسُ مِنْ هَوْسَاتِهِمْ لَمْ يَأْتُوا بِدَلِيلٍ وَلَا يُعْبَأُ بِكَلَامِهِمْ ( فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت، جلد 2، صفحہ 431)۔ عجیب بات ہے کہ دورِ عباسی کے جن علما کے نام پر کچھ لوگ اجتہاد کا دروازہ بند ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، انھوں نے خود کبھی صراحتاً یا کنایۃً ایسی بات نہیں کہی۔ بلاتشبیہ میں کہوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نبی آخرالزماں مانتے ہیں۔ کیوں کہ آپ نے خود اپنی زبان سے یہ اعلان فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں ۔ اس سلسلے میں آپ نے صراحتاً یہ اعلان فرمائے ہیں : لَا نَبِيَّ بَعْدِي ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3455)۔ یعنی، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ اور یہ کہ خُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 523)۔ یعنی، میرے بعد نبیوں کی آمد کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ مگر فقہا اربعہ یا اس دور کے کسی بھی بڑے فقیہ نے اجتہاد کے حوالے سے کبھی ایسی بات نہ کہی اور نہ لکھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader