Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

زبان میں ہیں اور ان کو حقیقی مفہوم دینے کے لیے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً چور کا ہاتھ کاٹ دو، کے قرآنی حکم کا مطلب ان کے نزدیک لفظی طور پر ہاتھ کاٹنا نہیں ہے بلکہ وہ ایک مجازی اسلوب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو چوری کرنے سے روک دو۔ محکم اور متشابہ کے الفاظ سے یہ استدلال درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کی آیتیں دو قسم کی ہیں۔ ایک قسم کی آیتوں کا تعلق معلوم دنیا سے ہے اور دوسری قسم کی آیتوں کا تعلق غیبی دنیا سے۔ محکم آیتیں معلوم دنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ چوری کی سزا کا تعلق بھی اسی دنیا سے ہے۔ چنانچہ ایسی آیتوں میں قرآن براہِ راست زبان میں کلام کرتا ہے۔ متشابہ آیتیں وہ ہیں جن کا تعلق غیبی دنیا سے ہے۔ یہاں قرآن نے تمثیل کا اسلوب اختیار کیا ہے۔ کیوں کہ ایسے امور کو براہِ راست اسلوب میں بیان کرنا ممکن نہ تھا۔ مثلاً خدا کا ہاتھ کا لفظ جہاں آتا ہے وہ لفظی معنوں میں نہیں ہے۔ اس سے مراد ہاتھ والی صفت ہے۔ یعنی پکڑ کی طاقت۔ اسلام دراصل فطرت کا نظام ہے۔ فطرت کے جو اصول ساری کائنات میں ابدی طور پر چل رہے ہیں انھیں اصولوں کو انسانی زندگی میں چسپاں کرنے کا نام اسلام ہے۔ جس طرح عالم فطرت کے اصول ابدی ہیں اسی طرح اسلام کے اصول بھی ابدی ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اسلام میں نظرثانی کی بات کرنا اتنا ہی غیر متعلق (irrelevant) ہے جتنا کہ قانونِ فطرت میں نظرثانی کا مطالبہ کرنا۔ ایک شبہ دوسرے مذاہب کے لوگ نہایت آسانی سے ریفارم کے لیے راضی ہو جاتے ہیں، جب کہ اسلام کے علما ہمیشہ ریفارم کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سے کچھ لوگوں نے یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page