Urdu book · فکر اسلامی

اسلام دورِ جدید میں

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

بنیادی طور پر الگ الگ ہے۔ عورت کا مقام بنیادی طور پر داخل (indoor) ہے اور مرد کا مقام بنیادی طور پر خارج (outdoor) ہے۔ دونوں کے درمیان یہ تقسیم یقینی طور پر افضل اور غیر افضل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ حیاتیاتی فرق کی بنا پر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت پیدائشی طور پر نازک جنس ہے۔ اور مرد پیدائشی طور پر سخت جنس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے زندگی کے عملی نظام میں دونوں کے لیے وہ کام دیا گیا ہے جو ان کی پیدائشی ساخت کے مطابق ہو۔ اس قسم کی تقسیم ایک عمومی ضرورت ہے اور وہ ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ حتی کہ وہ عورت اور عورت اور اسی طرح مرد اور مرد کے درمیان بھی اسی فطری فرق کی بنا پر ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں زندگی کا عملی نظام مقرر کرتے ہوئے دونوں کے لیے وہ کام دیا گیا ہے جو ان کی پیدائشی ساخت کے مطابق ہو۔ اس تقسیم کا تعلق ہرگز قدامت پسندی سے نہیں ہے۔ وہ صرف فطرت کا اعتراف ہے۔ فطرت نے پیدائشی طور پر عورت اور مرد میں فرق رکھا ہے۔ یہ فطری فرق اتنا حتمی ہے کہ جن سماجوں میں اس تقسیم کونظری طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے وہاں بھی فطرت کے دبائو کے تحت عملاً یہی تقسیم قائم ہے۔ مثلاً مغربی ملکوں میں عورت کو کامل آزادی دینے کے باوجود مذکورہ تقسیم کو ختم نہ کیا جا سکا۔ آج بھی وہاں کے تمام بڑے بڑے خارجی شعبوں میں مرد ہی کا غلبہ ہے۔ عورت کو نسبتاً صرف ہلکے شعبوں میں جگہ ملی ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ عورت اپنی پیدائشی ساخت کی بنا پر کمپیوٹر کے نازک کی بورڈ پر تو انگلیاں چلا سکتی تھی مگر عورت کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ کمپیوٹر فیکٹری میں بھاری بھر کم اور مشقت والے کام کو بخوبی طور پر انجام دے سکے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اس کی کچھ آیتیں محکم ہیں اور کچھ آیتیں متشابہ ہیں (3:7)۔ اس سے کچھ لوگوں نے یہ مطلب نکالا ہے کہ قرآن کی بہت سی تعلیمات تمثیل اور استعارہ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page