تصوف: مثبت اور منفی پہلو
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
تصوف : مثبت اور منفی پہلو ملک میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان باہمی محبت کا دور لانے کے لیے، نیز اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے آج ضرورت ہے کہ اسلام کے روحانی اور انسانی پہلو کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا جائے۔ اسلام کے اسی روحانی پہلو کا دوسرا نام تصوف ہے۔ تصوف یا صوفی کا لفظ خود صوفیوں نے اپنے لیے وضع نہیں کیا۔ گمان غالب یہ ہے کہ دور اول میں مادہ پرستی اور سیاست طلبی سے الگ ہو کر کچھ لوگوں نے روحانیت یا آخرت پسندی والی زندگی اختیار کی۔ یہ لوگ اپنی سادگی کے تحت اون (صوف) سے بنا ہوا کپڑا اوڑھتے تھے۔ دیکھنے والوں نے ایسے لوگوں کو صوفی (صوف والا) کہنا شروع کر دیا۔ پھر اس سے تصوف بن گیا۔ یعنی صوفیانہ زندگی اختیار کرنا۔ اس طرح دوسروں کے پکارنے کی وجہ سے اس طبقہ کے لیے صوفی یا تصوف کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ اسلام کا اصل مقصد بندے کو اس کے رب سے جوڑنا ہے۔ اس کا 50 فیصد تعلق خارجی شریعت سے ہے، اور بقیہ 50 فیصد کا تعلق آدمی کی خود اپنی باطنی طلب سے۔ شریعت یہ ابتدائی کام کرتی ہے کہ وہ بنیادی فریم ورک وضع کرکے ہمیں دے دیتی ہے۔ تاکہ حق کا مسافر بھٹکاؤ سے بچتے ہوئے اپنا سفر طے کر سکے۔ مگر معرفت خداوندی یا تعلق باللہ کے اگلے مراحل کا تمام تر انحصار آدمی کی خود اپنی فطری استعداد یا روحانی طلب پر ہوتا ہے۔ جتنی فطری طلب اتنی ہی زیادہ ترقی۔ مثلاً قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اس کا ابتدائی علم ہم کو نبی کی ’’خبر‘‘ سے ہوتا ہے۔ مگر جب ہم قرآن کو فہم وتدبر کے ساتھ پڑھتے ہیں تو ہماری اندرونی بصیرت خود یہ گواہی دینے لگتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader