Urdu book · فکر اسلامی

تصوف: مثبت اور منفی پہلو

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ فی الواقع یہ خدا کی کتاب ہے، نہ کہ کسی انسان کی کتاب۔ اب قرآن کا کتاب الہی ہونا ہمارے لیے صرف ایک دور کا عقیدہ نہیں رہتا بلکہ وہ ایک انتہائی ذاتی علم بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ پوری شریعت کا ہے۔ نبی ہم کو عبادت کی تعلیم دیتا ہے اور نماز ادا کرنے کا طریقہ بتاتا ہے۔ اس کے بعد جب ہم نماز میں مشغول ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ روحِ اصغر خود روحِ اکبر سے نفسیات کی سطح پر متصل ہوگئی ہے۔ اس وقت نماز ہمارے لیے صرف ایک تقلیدی عبادت نہیں رہتی بلکہ ذاتی دریافت کی ایک چیز بن جاتی ہے۔ انسان کو اللہ کا ذکر کرنا چاہیے، یہ بات ابتداء ہم کو نبی کی زبان سے معلوم ہوتی ہے۔ مگر جب ہم ذکرِ خدا وندی میں اپنے آپ کو مشغول کرتے ہیں تو اس وقت ہم کو ایک قسم کے روحانی سفر کا تجربہ ہوتا ہے ۔ جبکہ بندہ اور خدا کے درمیان کے تمام ظاہری حجابات اٹھ جاتے ہیں اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ ذکر کرنے والا کسی دور کی شخصیت کو محض لفظی طور پر یاد نہیں کر رہا ہے بلکہ وہ اپنے رب کے حضور میں پہنچ کر براہ راست اس سے ہم کلام ہونے کا تجربہ کر رہا ہے۔ یہی اس پوری شریعت کا حال ہے جو ہم کو پیغمبر خدا کے ذریعہ ملی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ شریعت ایک خارجی خبر کی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر جب ایک سچا بندہ اس کو واقعی طور پر اپنی زندگی میں اختیار کرتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر پاتا ہے کہ جو چیز پہلے ایک خارجی خبر تھی وہ اب اس کے لیے ذاتی معرفت بن گئی ہے۔ اس معاملہ میں یہ مذہبِ حق کی پوزیشن تھی۔ تاہم مذہبی دائرہ سے باہر سیکولر علوم کے محققین نے بھی اس میدان میں بہت کام کیا ہے، مگر وہ ایک بنیادی غلطی میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے انسانی زندگی کے دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ ایک طرف مختلف قسم کے سماجی اور سیاسی نظام وجود میں آئے جو خارجی سسٹم پر مبنی تھے۔ دوسری طرف مسٹسنم یا اسپر پچولزم کا ظہور ہوا جس نے حقیقت تک پہنچنے کے معاملہ کو تمام تر انسان کی ذاتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page