تصوف کا دوسرا پہلو
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
زمانہ میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی وہ بھی عوامی طبقہ تک محدود ہو کر رہ گئی۔ اس طرح ایسا ہوا کہ قوم کے نچلے طبقہ میں تو اسلام پھیلا مگر قوم کا اعلیٰ اور زیادہ ذہین طبقہ اسلام کی پہنچ سے باہر رہ گیا۔ کمیت کے اعتبار سے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، مگر کیفیت کے اعتبار سے زیادہ اونچا معیار حاصل نہ کیا جا سکا۔ موجودہ زمانہ علمی ترقی کا زمانہ تھا۔ سائنسی انقلاب کے نتیجہ میں انسانی فکر میں زبردست تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ وقت کے تمام اعلیٰ ذہن جدید تعلیم حاصل کر کے نئے ذہنی دور میں پہنچ چکے تھے۔ اب ضرورت تھی کہ اسلام کو وقت کے علمی معیار پر پیش کیا جائے۔ اسلام کو عصری دلائل کے ساتھ مدلل کر کے لوگوں کے سامنے لایا جائے تا کہ جدید طبقہ اس کی طرف متوجہ ہو سکے۔ مگر وقت کا یہ اہم ترین کام نہ ہو سکا، اور اس کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ خود مسلمان اپنی بے خبری کی وجہ سے اس اہم کام کی طرف مائل ہی نہیں ہوئے۔ صوفیا کے غلبہ نے عوام کے اندر تو اسلام کو پھیلایا، مگر خواص کا طبقہ اسلام کے زیر اثر نہ آسکا۔ اسی کا یہ نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان تعداد کے اعتبار سے آج ہمیشہ سے زیادہ ہیں، مگر زور اور تاثیر کے اعتبار سے وہ دنیا کی سب سے زیادہ کمزور قوم بنے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ زور اور تاثیر اعلیٰ ذہنوں کے ذریعہ آتی ہے۔ اور اعلیٰ ذہن خود مسلمانوں کے بھی اسلام کی طرف مائل نہ ہو سکے، پھر غیر مسلموں کے اعلیٰ ذہن کیوں کر اسلام کی طرف مائل ہوتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader