Urdu book · فکر اسلامی

تصوف کا دوسرا پہلو

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

نزاعی ہے۔ کیوں کہ ان اجتہادات کا تعلق تعبدی امور سے تھا، اور علما کے درمیان یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے کہ اجتہاد کا تعلق صرف معاملات سے، تعبدی امور میں اجتہاد جائز نہیں۔ صوفیا نے اس حد کو ملحوظ نہیں رکھا۔ انھوں نے مسنون طرق عبادت کے ساتھ "معاون تدبیر" کے نام پر بہت سے مزید طریقے مقرر کیے اور ان کو اپنے مریدوں کے درمیان پھیلایا۔ ان کا فعل بلاشبہ حد شرعی سے تجاوز تھا، اور مشکل ہی سے اس کی تصویب کی جاسکتی ہے۔ اسی کے ساتھ صوفیا کے ذریعہ قصداً یا بدون قصد ایک اور چیز وجود میں آئی جو دور صحابہ میں موجود نہ تھی، یہ تھا شخصی تقدس۔ دور صحابہ میں مسلمانوں کی ساری توجہ خدا کی طرف رہتی تھی۔ لوگوں کے نزدیک ساری دینی اہمیت صرف خدا اور رسول کی تھی، مگر صوفیا کے ذریعہ اس بدعت کا رواج ہوا کہ لوگ صوفی کی شخصیت کو شعوری یا غیر شعوری طور پر مقدس سمجھنے لگے۔ اس طرح اسلام میں شخصیت پرستی یا دوسرے لفظوں میں گرو ڈم داخل ہوا۔ حالانکہ اسلام کے لیے یہ سراسر اجنبی ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ لا كَهْنُوتَ فِي الْإِسْلَام (کہنوٹ اسلام میں نہیں)۔ تاہم جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، صوفیا کے ذریعہ دو نہایت مفید کام انجام پائے۔ (1) مسلم معاشرہ میں اسلام کی انسانی قدروں کی اشاعت۔ (2) اور پھر اس کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر عمومی اعتبار سے اسلام کی اشاعت کی راہ ہموار ہونا۔ اسلام اپنی ذات میں ایک تسخیری کشش رکھتا ہے۔ اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں (داعی اور مدعو) کے درمیان نفرت ختم کرکے معتدل فضا قائم کردی جائے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگتا ہے۔ صوفیا نے یہی کام کیا۔ تاہم اسلام کو اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ میں قابل قبول بنانے کے لیے اسلام کو جدید اعلیٰ معیار پر پیش کرنے کی ضرورت تھی، وہ صوفیا نہ کر سکے، اس لیے ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page