Urdu book · فکر اسلامی

مسلمان اور جدید تحدیات

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

ان منفی انجام کو دیکھنے کے بعد کچھ مسلم دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری اصل کمی صنعتی پس ماندگی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس کمی کو دور کرنا ہوگا۔ ہمیں دوسری قوموں کی طرح ایک بڑی صنعتی طاقت بننا ہے۔ اس کے بغیر ہماری قسمت بدلنے والی نہیں۔ مگر یہ بھی ہمارے مسئلے کا حل نہیں ہے۔ کیوں کہ زمانہ ٹھہرا ہوا نہیں ہے۔ وہ مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم صنعتی ترقی کی طرف بڑھنا شروع کریں تو ساری کوشش کے بعد جب ہم انڈسٹریل دور میں داخل ہوں گے تو، الون ٹافلر کے الفاظ میں، مغربی قومیں سپر انڈسٹریل دور میں داخل ہو چکی ہوں گی۔ اس طرح ہم بدستور پیچھے رہیں گے اور ہمارا اصل مسئلہ اس کے بعد بھی غیر حل شدہ پڑا رہا ہے۔ آج مسلمان جس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں۔ اور سیاسی، اقتصادی، صنعتی، تہذیبی اور ثقافتی سطح پر جو تحدیات ان کو درپیش ہیں، وہ کوئی نئی صورت حال نہیں ہے۔ اس قسم کے حالات کا تجربہ امت مسلمہ کی طویل تاریخ میں بار بار مختلف شکلوں میں پیش آتا رہا ہے۔ تاریخ مزید بتاتی ہے کہ ہر خطرہ یا ہر چیلنج سے گزرنے کے بعد امت پہلے سے زیادہ طاقت ور اور مستحکم ہو گئی ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے پہلے امت کو جب اس قسم کے مسائل اور تحدیات سے دوچار ہونا پڑا تو کیا صورت پیش آئی اور کس طرح اس کا مقابلہ کیا گیا۔ اس کا جواب تاریخ کی روشنی میں صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ کامیابی اسلام کی دعوتی طاقت کے ذریعہ حاصل کی گئی۔ تیرہویں صدی عیسوی کے وسط میں تاتاریوں نے عالم اسلام کو غیر معمولی نقصان پہنچایا۔ وحشی اور خوں خوار تاتاریوں کی طاقت بظاہر نا قابل شکست بنی ہوئی تھی۔ مگر اس کے بعد اسلام کی دعوتی طاقت ظاہر ہوئی۔ اس نے تاتاری قوم کو مسخر کر لیا۔ ایک مستشرق نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page