مسلمان اور جدید تحدیات
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار نا کام ہو چکے تھے : The religion of the Mulims had conquered where their arms had failed.(p. 488) آج مسلمانوں کو اسلام کی اسی دعوتی طاقت کو لے کر اٹھنا ہے۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کے کام کو صحیح طور پر انجام دے سکیں تو یقینی طور پر ان کے حالات بدل جائیں گے۔ اس کے بعد وہی ہو گا جس کی خبر قرآن میں دی گئی ہے کہ جو لوگ بظاہر ہمارے دشمن نظر آتے ہیں وہ ہمارے دوست اور ساتھی بن جائیں گے (41:34)۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے دعوتی عمل کو زندہ کرنے کے مواقع غیر معمولی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ایک طرف یہ ہوا ہے کہ مذاہب کے علمی مطالعہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام کے سوا تمام مذاہب غیر معتبر ہیں۔ کسی بھی دوسرے مذہب کو تاریخی اعتبار بیت حاصل نہیں۔ جبکہ اسلام ہر علمی جانچ میں معتبر ثابت ہوا ہے۔ اس طرح گویا اسلام اس حیثیت میں ہے کہ وہ بلا مقابلہ کامیابی حاصل کر سکے۔ جہاں تک انسانی ساخت کے ازموں کا تعلق ہے، وہ بھی سب کے سب نا کام ہو چکے ہیں، اس سلسلہ کا آخری فیصلہ کن واقعہ کمیونسٹ ایمپائر کا ٹوٹنا ہے۔ کمیونسٹ ایمپائر کی موجودگی میں دنیا اس غلط فہمی میں تھی کہ ہمارے پاس ایک آئیڈیالوجی موجود ہے۔ مگر 1991 میں جب کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ کر گر گئی تو اس بھرم کا بھی خاتمہ ہو گیا اب ساری دنیا میں ایک فکری اور نظریاتی خلا (ideological vacuum) ہے۔ اس خلا کو صرف اسلام پر کر سکتا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اسلام کی دعوت کو لے کر اٹھیں اور اس کے ذریعہ سے اقوام کی فکری تسخیر کر کے اسلام کی نئی تاریخ بنائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader