Urdu book · فکر اسلامی

اورنگ زیب عالم گیر

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

پیدا ہونے والا ہے وہ اپنی نوعیت میں خارجی ہے، نہ کہ داخلی (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 9، صفحہ 392)۔ اورنگ زیب کی پیدائش سے بہت پہلے دوسری صدی عیسوی کے آخر میں چین میں پرنٹنگ کا ابتدائی طریقہ دریافت ہو چکا تھا۔ اس میں ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ 1620ء میں ایمسٹرڈم میں مشہور ڈچ پریس بنا لیا گیا۔ پریس اولاً لکڑی کے ہوا کرتے تھے۔ پھر لکڑی اور لوہے کے ملے جلے پریس بنے۔ یہاں تک کہ 1795ء میں انگلینڈ میں مٹل پریس تیار کیا گیا جو مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا تھا (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 14، صفحہ 1054)۔ اورنگ زیب کا کمال یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کتابت کر کے قرآن تیار کرتا تھا۔ مگر اورنگ زیب کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس سے پہلے 1455ء میں گوٹن برگ (Gutenberg) نے بائبل کا پہلا نسخہ پریس میں چھاپ کر عیسائیت کے مشن کو دستکاری کے دور سے نکال کر مشینی دور میں داخل کر دیا ہے۔ اورنگ زیب اگر اس واقعہ کو جانتا تو اس کو معلوم ہوتا کہ قرآن کو ہاتھ سے لکھنے کے بجائے اس کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ملک میں پرنٹنگ پریس کی صنعت قائم کرے۔ انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی 1571ء میں قائم ہوئی۔ پیرس یونیورسٹی اور آکسفرڈ یونیورسٹی اس سے بھی پہلے بارھویں صدی عیسوی میں قائم ہو چکی تھی۔ اورنگ زیب کا زمانہ سترھویں صدی کا زمانہ ہے۔ اس کے لیے کرنے کا زیادہ اہم کام یہ تھا کہ وہ ہندوستان میں ہر قسم کے علوم کی ایک وسیع یونیورسٹی بنائے۔ اسی طرح اس کو یہ کرنا تھا کہ وہ وقت کے موضوعات پر ریسرچ کے ادارے کھولے۔ وہ دہلی میں نیابیت الحکمت کھول کر یورپ کے علوم کے ترجمے کرائے۔ وہ علما کی ایک اکیڈمی بنائے جو وقت کے علوم کو حاصل کرے اور اس پر ریسرچ کرے۔ مگر وہ اس قسم کا کوئی بھی کام نہ کر سکا۔ اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وہ تقسیم کار پر راضی نہیں ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page