Urdu book · فکر اسلامی

اورنگ زیب عالم گیر

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

کر باہر جانے لگے۔ اس وقت ترکی میں طاقت ور مسلم خلافت (1924-1300) قائم تھی۔ اس زمانہ میں غالباً کچھ مسلم سائنس داں بھاگ کر ترکی گئے۔ مگر وہاں کے دربار میں انھیں کوئی پذیرائی نہیں ملی۔ مسلم اسپین کے زوال کے بعد 1526ء میں ہندوستان میں مغل سلطنت قائم ہوئی ۔ مگر مغل حکمرانوں کو یہ خیال نہیں آیا کہ وہ قدیم مسلم اسپین کے کچھ سائنس دانوں کو بلائیں اور علمی ترقی کا وہ کام ہندوستان میں جاری کریں جس کا سلسلہ اسپین میں منقطع ہو گیا تھا۔ تحقیق وریسرچ کا یہ کام صرف حکومت کی سرپرستی کے تحت ہو سکتا تھا۔ چنانچہ ان سائنس دانوں کو جب مسلم دنیا میں مواقع نہیں ملے تو وہ مغربی یورپ میں داخل ہونے لگے۔ وہاں انھیں بادشاہوں کی طرف سے سرپرستی حاصل ہوئی۔ یہی سبب ہے جس کی بناء پر اسپین کے عمل کی تکمیل مسلم دنیا میں نہ ہوسکی، وہ یورپ کی سرزمین پر ہوئی۔ اورنگ زیب بھی اپنی بے خبری اور سیاست سے غیر معمولی دلچسپی کی بنا پر اپنے زمانہ میں اس رخ پر کوئی اقدام نہ کر سکا۔ آخری مرحلہ میں سائنس کی ترقی کا کریڈٹ تمام تر یورپ کے حصہ میں چلا گیا ۔ جدید دور کے تمام ابتدائی اسباب اور اس کے ابتدائی مظاہر اورنگ زیب کے زمانہ میں پیدا ہو چکے تھے۔ روایتی گھڑی کے مقابلہ میں اسپرنگ دار(spring-driven) گھڑی کا ابتدائی ماڈل 1500 میں جرمنی میں تیار کر لیا گیا تھا۔ جغرافیہ اور بحریات میں ترقی کی بنا پر پرتگال کا واسکوڈی گاما 1499ء میں کالی کٹ کے ساحل پر اتر چکا تھا۔ اور اس طرح اس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری راستہ کھول دیا تھا۔ 1510ء میں پرتگال نے گوابر قبضہ کر لیا تھا۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی 1600ء میں بنی اور فرنچ ایسٹ انڈیا کمپنی 1664 میں قائم ہوئی۔ مگر اورنگ زیب اپنی سیاسی مشغولیت کی بنا پر ان واقعات سے بے خبر رہا۔ حالانکہ یہ واقعات بتا رہے تھے کہ آئندہ نہ صرف برصغیر ہند بلکہ سارے عالم اسلام کے لیے جو مسئلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page