Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

رقابت کا یہ اثر تھا کہ ہندوستان یا کسی دوسرے ملک میں بھی کسی قابل ذکر شخصیت نے یہ نہیں سوچا کہ ہمیں اسپین کی ترقیوں سے واقف ہو کر اسے آگے بڑھانا چاہیے۔ یہ حقیقت اگر ہم عصر مسلم حکمرانوں اور مسلم رہنماؤں پر واضح ہوتی اور وہ لوگ اس سلسلہ میں مثبت اقدام کرتے تو اسپین کے زوال کے بعد جو علما بھاگ کر مغربی یورپ میں گئے، وہ اس کے بجائے مسلم دنیا کا رخ کرتے۔ اور پھر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا تسلسل یورپ میں جاری ہونے کے بجائے مسلم دنیا میں جاری ہو جاتا۔ اور جس طرح جدید سائنسی دور کا آغاز کرنے کا کریڈٹ اسلام کو حاصل ہے، اسی طرح اس دور کی تکمیل کا کریڈٹ بھی اسلام کو حاصل ہوتا۔ اس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تاریخ کا نقشہ اس سے بالکل مختلف ہوتا جو موجودہ دور میں ہمیں نظر آتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی علما کے کردار کا دوسرا دور وہ ہے جس کی علامت شاہ ولی اللہ دہلوی (1762-1703) کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے بلاشبہ کچھ مفید کام کیے۔ مثلاً قرآن کا فارسی زبان میں ترجمہ، مدرسہ رحیمیہ قائم کرنا، حدیث کے علم کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا، حجتہ اللہ البالغہ اور اس قسم کی دوسری قیمتی کتابوں کی تصنیফ وغیرہ۔ مگر اس قسم کے مختلف کام جو شاہ ولی اللہ نے انجام دیے، وہ سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے تحفظاتی کام ہیں، نہ کہ قائدانہ کام۔ تحفظاتی خدمت بھی بلاشبہ ایک قابل قدر خدمت ہے۔ مگر تحفظاتی کردار اور قائدانہ کردار میں ایک بنیادی فرق ہے۔ تحفظ کا تعلق ماضی کی حفاظت سے ہے اور قیادت کا تعلق مستقبل کی تعمیر سے۔ ان کی تصنیف حجتہ البالغہ قائدانہ نوعیت کی ایک خدمت قرار دی جا سکتی تھی، بشرطیکہ وہ اسم با مسمیٰ ہوتی۔ مگر جیسا کہ آئندہ وضاحت کی جائے گی، شاہ صاحب کی یہ کتاب اپنے اسلوب کے اعتبار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page