Urdu book · فکر اسلامی

شاہ ولی اللہ دہلوی

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

سے دین الہی کی صرف تقلیدی تببین ہے، وہ دین الہی کی عقلی تببین نہیں۔ تحفظاتی کردار ادا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ آدمی کو ماضی کے اثاثہ سے واقفیت ہو۔ مگر جس چیز کو قائدانہ کردار کہا جاتا ہے اس کی ادائیگی کے لیے مستقبل کو دیکھنے والی نگاہ درکار ہے۔ کیوں کہ قائدانہ کردار ایک شخص حال میں ادا کرتا ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ مستقبل میں برآمد ہوتا ہے۔ اسی لیے تحفظاتی کردار ادا کرنے کے لیے مقلدانہ فکر کافی ہو جاتا ہے۔ مگر قائدانہ کردار ادا کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ آدمی زمانہ شناسی کے ساتھ اعلیٰ مجتہدانہ صلاحیت کا مالک ہو۔ شاہ ولی اللہ نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں قائم الزمان ہوں۔ یعنی یہ کہ اللہ جب نظام خیر میں سے کسی چیز کو چاہتا ہے تو وہ مجھ کو اپنی منشا کو پورا کرنے کے لیے آلہ کے طور پر استعمال کرتا ہے (رَأَيْتُنِي فِي المَنَامِ قَائِمَ الزَّمَانِ ۔ أَعْنِي بِذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا مِنْ نِظَامِ الخَيْرِ جَعَلَنِي كَالْجَارِحَةِ لِإِتْمَامِ مُرَادِهِ) فیوض الحرمین، صفحہ 111۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاہ ولی اللہ کا یہ خواب صحیح تھا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ بالفعل قائم الزمان ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں قائم الزمان بننا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ دور جدید کے سرے پر پیدا ہوئے۔ وہ اس تاریخی مقام پر تھے جہاں ان کے لیے مقدر تھا کہ وہ وقت کے دھارے کو سمجھیں اور عمل اسلامی کی ایسی روایت قائم کریں جوان کے بعد صدیوں تک جاری رہ کر دور جدید کو از سر نو اسلام کا دور بنا سکے۔ مگر وہ اپنا یہ تاریخی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔ وہ قائم الزمان بننے کے مقام پر تھے مگر وہ عملاً قائم الزمان نہ بن سکے۔ شاہ ولی اللہ کا زمانہ اٹھارویں صدی کا زمانہ ہے۔ اس سے پہلے سترھویں صدی میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page