نوآبادیاتی دور کے علما
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ہیں ۔ ہم بالکل بے سرو سامان ہیں۔ مولانا نانوتوی نے عرض کیا کہ کیا اتنا بھی سامان نہیں ہے جتنا کہ غزوہ بدر میں تھا۔ اس پر مولانا شیخ محمد صاحب سکوت فرمایا ۔ “ (نقش حیات، 1954ء، جلد 2، صفحہ 42) ۔ یہ تقابل بلاشبہ غلط تھا۔ بدر کے موقع پر دونوں فریقوں کے درمیان جو فرق تھا وہ صرف کمیاتی تھا۔ یعنی ایک طرف 313 آدمی تھے اور دوسری طرف ایک ہزار آدمی۔ اس کے برعکس 1857ء میں دونوں فریقوں کے درمیان کیفیاتی فرق پیدا ہو چکا تھا۔ یعنی ایک طرف دستی ہتھیار تھے اور دوسری طرف دور مار ہتھیار ۔ ایک طرف جدید سائنسی طریقوں سے مسلح فوج تھی اور دوسری طرف روایتی طریقوں کی حامل جماعت ۔ ایک طرف بڑی طاقت کے ساتھ بحری طاقت کا زور شامل تھا اور دوسری طرف صرف برّی طاقت محدود طور پر موجود تھی۔ ایک گروہ کی پشت پر نئے عزائم سے بھر پور ایک قوم تھی اور دوسرے گروہ کی پشت پر صرف ایک زوال یافتہ قوم کے کچھ افراد تھے۔ اس وقت کے علما، جو اس بغاوت میں قائدانہ کردار ادا کر رہے تھے، انھیں اس فرق کا کوئی اندازہ نہ تھا۔ اگر وہ اس فرق سے پوری طرح واقف ہوتے تو وہ کہتے کہ موجودہ حالات میں ہمارے لیے صبر ہے، نہ کہ جہاد۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم صبر پر قائم رہ کر تیاری کریں ، نہ کہ بے وقت حربی اقدام کر کے اپنی تباہی میں مزید اضافہ کا سبب بن جائیں۔ اس سلسلہ میں علما کی بے خبری کی ایک مہلک مثال یہ ہے کہ مغربی قو میں جدید مواصلات ( communication ) کے دور میں داخل ہو چکی تھیں۔ مگر معلوم ریکارڈ کے مطابق ، علما اس زمانی تبدیلی سے مطلق بے خبر تھے۔ یہ واقعہ ہے کہ 1857ء کی جنگ میں جدید مواصلاتی نظام نے فیصلہ کن کردار ادا کیا جو اس سے پہلے 1851ء میں انڈیا میں لایا جا چکا تھا۔ مگر علما اور ان کے تمام ساتھی اس سے اس درجہ بے خبر تھے کہ ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader