نوآبادیاتی دور کے علما
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
یکسوئی کے ساتھ علوم کی ترتیب وتدویں کا عظیم کام انجام دے سکیں۔ اسی طرح اسپین (اندلس) کی مسلم سلطنت کی مدت تقریباً آٹھ سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں بھی اس پوری مدت میں سیاسی ٹکراؤ اور سیاسی بغاوت کے سلسلے جاری رہے ۔ اس کے باوجود عین اسی دور میں مسلم علما اور اہل علم نے جو علمی اور سائنسی خدمات انجام دیں وہ حیرت ناک حد تک عظیم ہیں۔ دوبارہ اس کی وجہ یہ تھی کہ علما اور اہل علم نے اپنے آپ کو علمی سیاست کے ہنگاموں سے دور رکھا اور ہم تن علوم وفنون کی خدمت کرنے میں مشغول رہے۔ جدید نو آبادیاتی دور میں اگر چہ بیشتر علما کا یہ حال رہا کہ وہ اپنے اصل کام (تعمیر شعور) کو چھوڑ کر بے فائدہ قسم کے سیاسی جہاد میں مشغول ہوگئے۔ تاہم اس دور میں چند علما ایسے نظر آتے ہیں جنھوں نے اس حقیقت کو سمجھا کہ علما کا کام لڑائی جھگڑوں میں اپنی قوت ضائع کرنا نہیں ہے ۔ بلکہ سیاست سے الگ رہ کر تعمیری شعبوں میں اپنی طاقت لگانا ہے۔ مگر ایسے علما اتنی زیادہ اقلیت میں تھے کہ وہ صورتِ حال کی تبدیلی میں کامیاب نہ ہو سکے۔ 1857ء کے زمانہ میں جب علما نے انگریزوں کے لاف جہاد بالسيف کا فیصلہ کیا، اس وقت دیوبند میں ایک بڑے عالم مولانا شیخ محمد صاحب تھے۔ مولانا کی رائے دوسرے عالموں کے بالکل برعکس تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا ہم مسلمانوں پر فرض تو درکنار، موجودہ احوال میں جائز ہی نہیں۔ چنانچہ دیوبند میں ایک مشاورتى اجتماع ہوا ۔ اس میں دوسرے علما کے ساتھ مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا محمد قاسم نانوتوی بھی شریک تھے۔ اس واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے مولانا حسین احمد مدنی لکھتے ہیں: ”اس اجتماع میں جہاد کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی ، حضرت نانوتوی نے نہایت ادب سے مولانا شیخ محمد صاحب سے پوچھا کہ حضرت کیا وجہ ہے کہ آپ ان دشمنان دین و وطن پر جہاد کو فرض بلکہ جائز بھی نہیں فرماتے ۔ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس اسلحہ اور آلاتِ جہاد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader