Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

on its way under Lord Elgin to deal with trouble in China. From Cape Colony, too, were brought, in response to a cabled appeal, two batteries of artillery, stores, horses and £60,000 in gold.” (pp. 156-157) "(1857 کی بغادت کے وقت) انڈیا میں برطانی فوجیوں کی تعداد صرف 45 ہزار تھی۔ جب کہ ہندوستانی سپاہیوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ تھی۔ گنگا کی وادی میں مقیم انگریزوں میں سے کسی بھی شخص کو، خواہ وہ فوجی ہو یا غیر فوجی، کوئی چیز بچا نہیں سکتی تھی۔ کوئی بھی چیز، کم از کم عارضی طور پر، بنگال اور اودھ میں برطانوی غلبہ کے خاتمہ کو روک نہیں سکتی تھی، اگر ایسا ہوتا کہ ٹیلی گراف کا نظام قائم کیے جانے سے پہلے بغادت ہو جاتی۔ تار کے ذریعہ (جس کو باغی کاٹ نہیں سکتے تھے) گورنر جنرل، لارڈ کیننگ نے انگلینڈ سے مزید فوج طلب کی۔ اس کے علاوہ لارڈ کیننگ کے لیے ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ یہ ممکن ہوا کہ وہ تیزی کے ساتھ مدراس سے بمبئی سے، لندن سے، برما سے قیمتی فوجی دستے حاصل کر سکیں۔ مزید ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ انھیں یہ موقع ملا کہ وہ ایران سے اس طاقت ور فوج کو واپس بلاسکیں جو جنرل اوٹرام کی قیادت میں وہاں بھیجی گئی تھی۔ مگر ان سب سے زیادہ فیصلہ کن یہ بات تھی کہ ٹیلی گرام کے ذریعہ ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ایک فوری اور واجب التعمیل پیغام سنگاپور بھیج کر ساز و سامان سے لیس اس پانچ ہزار آدمیوں کی مسلح فوج کو درمیان میں مداخلت کرکے بلاسکیں جو لارڈ ایلگن کی قیادت میں چین جارہی تھی۔ مزید ٹیلی گرام ہی کے ذریعہ کیپ کالونی سے توپ خانہ کی ڈویبیٹری، اسٹور، گھوڑے اور ساٹھ ہزار پونڈ سونے کی صورت میں منگوائے گئے“۔ ایک صحیح آواز سید رشید رضا (1865-1935ء) دار العلوم ندوۃ العلما، لکھنؤ، کی دعوت پر 1912ء میں ہندوستان آئے تھے۔ اس کے بعد وہ دیوبند کے دارالعلوم میں گئے۔ وہاں انھوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page