Urdu book · فکر اسلامی

ایک صحیح آواز

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

اساتذہ اور طلبہ کے سامنے عربی میں ایک مفصل تقریر کی جو دارالعلوم دیوبند کی رو داد (1330ھ، 1912ء) میں درج ہے۔ اس تقریر میں انھوں نے علما کو اشاعت اسلام کے کام کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا: ”اسلام کی اشاعت کا دوسرا حصہ بت پرستوں سے متعلق ہونا چاہیے۔ ہندوستان میں سیکڑوں قسم کے بت پرست ہیں۔ یہاں بتوں کو پوجنے والے، درختوں اور پتھروں کو پوجنے والے، چاند، سورج، ستاروں اور دوسری لغویات کو پوجنے والے موجود ہیں۔ اگر ہمارے پاس دعاۃ اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہو سکتی ہے جو اس وقت ہمارے تصور میں بھی نہیں آسکتی۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک دور اندیش مسلمان کی توجہ کے لائق ہے۔ اور وہ یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں کے مقابلہ میں اتنی کم ہے کہ ان کی ہستی کو اس ملک میں ہمیشہ معرض خطر میں سمجھنا چاہیے۔ انگریزی حکومت جو عقل و عدل کی حکومت ہے، اس نے غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان میزان نہ قائم رکھا ہے۔ اگر کبھی یہ میزان نہ ٹوٹ جائے تو آپ خیال کر سکتے ہیں کہ کیا نتیجہ ہوگا۔ غالباً یہاں کے مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو اندلس کے مسلمانوں کا ہوا تھا۔ اس لیے ہم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو ان شبہات کو رفع کرے جو اسلام پر عاید کیے جاتے ہیں۔ یہ شبہات جو موجودہ زمانہ کے علوم کی بنا پر پیدا ہوئے ہیں ان کا دور کرنا بہت ضروری ہے۔ مگر ان شبہات کا رفع کرنا بغیر فلسفہ جدید کی واقفیت کے ناممکن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس جماعت کے اشخاص فلسفہ جدید کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں“۔ (الجمعية ویکلی، دہلی، 6 فروری 1970)۔ یہ بلاشبہ ایک صحیح رہنمائی تھی۔ مگر ہندوستانی علما میں سے کوئی ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page