کونیت بشری، امارت بشری
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈھانچہ ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ مولانا مفتی محمود کو موقع ملا کہ وہ پاکستان کے صوبہ سرحد میں اپنی چیف منسٹری (71-1970) کے تحت اسلام پسندوں کی وزارت بنائیں ۔ مگر میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی وہ ناکامی کے ساتھ ختم ہو گئی۔ سوڈان میں 1988ء میں الاخوان المسلمون کو یہ موقع ملا کہ وہ جعفر النمیری کی حکومت میں مؤثر شرکت کر سکیں ۔ مگر ان کی یہ شرکت سوڈان کے معاشرتی حالات میں کچھ بھی تبدیلی نہ لاسکی اور دوبارہ اپنی مدت کے اختتام سے پہلے ختم ہوگئی ۔ پاکستان میں جنرل محمد ضیاء الحق کو ساڑھے گیارہ سال (88-1977) تک کامل حکمرانی کا موقع ملا۔ ان کو ہند و پاک دونوں ملکوں کے علما کی تائید حاصل تھی ۔ مگر وہ پاکستان کے حالات میں کوئی بھی اسلامی تبدیلی لانے میں کامیاب نہ ہو سکے، وغیرہ۔ عملی سیاست کے میدان میں علما کی مسلسل ناکامی کا سبب یہ ہے کہ وہ منصوبہء الہی کے خلاف چل رہے ہیں۔ ان کی ان تمام سرگرمیوں پر حضرت عائشہ کی وہ روایت صادق آتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ وہ کونیت بشری کو درست کیے بغیر امارت بشری کا منصب سنبھالنا چاہتے ہیں ۔ ایسی کوشش حضرت عائشہ کے قول کے مطابق ، پیغمبر کے زمانہ میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتی تھی، پھر وہ موجودہ زمانہ میں کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے۔ راقم الحروف کا اندازہ ہے کہ علما کو صحیح طور پر اس کا اندازہ ہی نہیں کہ موجودہ زمانہ میں کونیت بشری میں کیا تبدیلی آئی ہے اور آج کا وہ انسانی شاکلہ کیا ہے جس کو سمجھنا اور جس کی تصحیح کرنا وہ پہلا ضروری کام ہے جس میں انھیں سب سے پہلے مصروف ہونا چاہیے۔ تصحیح شاکلہ کے بغیر کوئی بھی عملی سیاست ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اگلی سطروں میں اس مسئلہ کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader