Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

جنگ میں کیا جاسکے۔ مغربی قوموں کے غلبہ و ترقی کا اصل راز یہ تھا کہ انھوں نے شاکلہ انسانی کو تبدیل کر دیا تھا۔ ان کے لائے ہوئے علمی انقلاب نے ساری دنیا کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اسی طرح سوچیں جس طرح اہل مغرب سوچتے ہیں۔ وہ چیزوں کے بارے میں اسی طرح رائے قائم کریں جس طرح اہل مغرب رائے قائم کرتے ہیں۔ اس تبدیلی نے میدان مقابلہ کو جنگ کے بجائے فکر کے میدان میں پہنچادیا۔ اہل مغرب سے کامیاب مقابلہ کے لیے ضروری تھا کہ انھیں فکر کے میدان میں شکست دی جائے۔ اہل مغرب پر فتح پانے کے لیے وسیع تر معنوں میں شاکلہ انسانی کو دوبارہ بدلنے کی ضرورت تھی۔ مگر علما سیاسی جھگڑوں میں مشغول ہونے کی وجہ سے نہ اس راز کو سمجھ سکے اور نہ اس کے لیے انھوں نے کوئی حقیقی عمل انجام دیا۔ کونیت بشری ، امارت بشری جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، زندگی کی تشکیل میں کونیت بشری (عقلیت انسانی) کی حیثیت بنیادی ہے اور امارت بشری کی حیثیت ظاہر ڈھانچہ کی۔ کونیت بشری اگر درست ہو تو ظاہری سیاسی ڈھانچہ بھی لازماً درست ہوگا۔ کسی کی سازش یا تخریب اس کو صلاح سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کی مثال ابوبکر صدیق اور عمر فاروق کا زمانہ خلافت ہے۔ اور جب کونیت بشری میں بگاڑ آجائے تو اس کے بعد کوئی صالح حکمراں بھی محض حکومت کے زور پر معاشرہ کو صالح معاشرہ نہیں بنا سکتا۔ موجودہ زمانہ میں یہ درد ناک منظر سامنے آیا ہے کہ عملی سیاست کے میدان میں علما کی تمام کوششیں مسلسل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، سید احمد بریلوی نے پشاور میں اسلامی حکومت (31-1827) قائم کی۔ مگر بہت کم مدت میں اس کا پورا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page