Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈارون کے اس نظریہ پر اس کے بعد بے شمار مزید تحقیقات ہوئیں۔ اگرچہ اس کے ابتدائی نظریہ میں بعض تعدیلات کی گئیں۔ مگر بنیادی طور پر حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ تمام جدید علما کے نزدیک سائنسی مسلمہ قرار پایا۔ اس کے نتیجہ میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ساری دنیا میں یہ بن گیا کہ انسان کی تخلیق کا خالق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اس قانونِ فطرت کا مظہر ہے جس کو عام طور پر ارتقاء (evolution) کہا جاتا ہے۔ جدید مفکرین کا تیسرا گروہ وہ ہے جس کی نمائندگی کا مقام کارل مارکس (1818-1883ء) کو حاصل ہوا۔ مارکس نے انسانی تاریخ کے سفر کا ایک مادی فلسفہ پیش کیا جس کو اس نے تاریخ کی علمی تعبیر (scientific interpretation) کا نام دیا۔ اس نے کہا کہ تاریخ میں خود اس کے اپنے اندرونی قانون کے تحت طبقاتی جدوجہد (class struggle) جاری رہتی ہے۔ اور یہی طبقاتی جدوجہد تاریخ کے حال اور مستقبل کی صورت گری کرتی ہے۔ قدیم زمانہ کا انسان تاریخ کو تقدیر کا کرشمہ سمجھتا تھا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ ایک برتر خدا ہے جو تاریخی واقعات کو کسی ایک یا دوسری صورت میں تشکیل دیتا ہے۔ مگر مارکس کے مذکورہ فلسفہ اور اس فلسفہ کی بنیاد پر پیدا ہونے والے بے شمار لٹریچر نے ساری دنیا کے انسانوں کو شعوری یا غیر شعوری طور پر متاثر کیا۔ لوگ تاریخ کو ایک غیر خدائی واقعہ کی نظر سے دیکھنے لگے جب کہ اس سے پہلے وہ اس کو خدائی واقعہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔ معیارِ قوت میں تبدیلی اوپر جو بات کہی گئی وہ قوانین فطرت کی دریافت کے فلسفیانہ پہلو سے تعلق رکھتی تھی۔ عملی اعتبار سے اس دریافت نے مغرب کو مزید ایک بہت بڑا فائدہ پہنچایا۔ اس کے ذریعہ اہل مغرب کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ تاریخ میں پہلی بار طاقت کے معیار کو بدل دیں۔ وہ طاقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page