معیارِ قوت میں تبدیلی
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
قوت کو ایک نیا مفہوم دے دیں جس سے پچھلی قومیں آشنا نہیں ہو سکتی تھیں۔ اس کے ذریعہ اہل مغرب نے قدیم روایتی دور کو نئے سائنسی دور میں داخل کر دیا۔ انھوں نے دستکاری کی صنعت کو مشینی صنعت میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے جہازرانی کو بادبانی کشتی کے دور سے نکال کر دخانی کشتی کے دور میں پہنچادیا۔ انھوں نے دستی ہتھیاروں سے آگے بڑھ کر دور مار ہتھیار تیار کر لیے۔ انھوں نے بڑی اور بحری سفر پر ہوائی سفر کا اضافہ کیا۔ انھوں نے حیوانی قوت سے چلنے والی سواری کو انجن کی قوت سے چلنے والی سواری میں تبدیل کر لیا۔ انھوں نے انسانی تاریخ کو محنت کے عمل کے دور سے نکال کر منصوبہ بند عمل کے دور میں پہنچادیا۔ تاریخ کے پچھلے ادوار میں ایک فریق اور دوسرے فریق کے درمیان زیادہ تر کمیاتی فرق (quantitative difference) ہوا کرتا تھا۔ اب اہل مغرب نے ایسا دور تخلیق کیا جب کہ ان کے اور دوسروں کے درمیان کیفیاتی فرق (qualitative difference) پیدا ہوگیا۔ اس تبدیلی نے اہل مغرب کو دوسری قوموں کے اوپر واضح اور فیصلہ کن فوقیت دے دی۔ ان فروق نے جس طرح حالات کو بدلا، اسی طرح خود انسانوں میں زبردست تبدیلیاں پیدا کیں ۔ اب اہل مغرب نئی دریافت کی نفسیات میں جی رہے تھے اور اہل مشرق وراثتی عقیدہ کی نفسیات میں۔ اہل مغرب اجتہادی اوصاف کے مالک تھے اور اہل مشرق تقلیدی اوصاف کے مالک۔ اہل مغرب کے درمیان آزادی تنقید کا ماحول تھا اور اہل مشرق کے یہاں ذہنی جمود کا ماحول۔ اہل مغرب کا قافلہ رواں دریا کی مانند تھا اور اہل مشرق کی جماعت ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند۔ اہل مغرب ایک مقصد کے تحت متحرک ہوئے تھے اور اہل مشرق کے یہاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader