فکر اسلامی
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
کے معیار پر دیکھ رہا ہوں۔ علما کے پاس ایک ہی معلوم معیار ہے اور وہ اسلامی کتب خانہ کی قدیم کتابوں کا ہے۔ اس معیار پر دیکھنے میں حجۃ اللہ البالغہ انھیں ایک منفرد کتاب معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اعلان کر دیتے ہیں کہ وہ ایک معرکہ الآرا قسم کی عقلی کتاب ہے۔ مگر میں اس کو جدید معیار تحقیق پر جانچتا ہوں تو مجھ کو نظر آتا ہے کہ وہ سرے سے کوئی عقلی کتاب ہی نہیں۔ اس کتاب کے مداح اگر یہ کہیں کہ قدیم ذخیرہ کتب کے مقابلہ میں وہ ایک ممتاز کتاب ہے تو مجھے ان سے کوئی اختلاف نہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ اس کتاب کو عقلی معیار استدلال کا اعلیٰ نمونہ بتائیں تو میری تنقید باقی رہے گی۔ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کتاب کا عقلی معیار استدلال سے کوئی تعلق نہیں۔ غیر علمی انداز مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب مَاذَا خَسِرَ الْعَالَمُ بِانْحِطَاطِ الْمُسْلِمِينَ پر مصری عالم سید قطب کا مقدمہ شامل کیا گیا ہے۔ سید قطب نے اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کتاب میں جو باتیں کہی گئی ہیں ، ان کے سلسلہ میں مصنف نے محض وجدانی قسم کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ یہ کتاب موضوعی حقائق کو اپنا ذریعہ استدلال بناتی ہے (بَلْ يَتَّخِذُ الْحَقَائِقَ الْمَوْضُوعِيَّةَ أَدَاتَهُ ، صفحہ 18) اب اس کی روشنی میں اصل کتاب کو دیکھئے ۔ مولانا موصوف کی اس کتاب کا مرکزی تخیل یہ ہے کہ مسلمان قِيَادَةُ الْأُمَمِ (صفحہ 32) کے منصب پر سرفراز کیے گئے ہیں۔ کتاب کے تصدیر نگار ڈاکٹر محمد یوسف موسیٰ نے اس کے لیے قِيَادَةُ الْإِنْسَانِيَّةِ (صفحہ 13) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ صاحب مقدمہ سید قطب کے نزدیک ، اس کتاب کا مقصد مسلمانوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader