Urdu book · فکر اسلامی

حجۃ اللہ البالغہ

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

مثال کے طور پر نیت اور عبادت کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے گئے ہیں: اِعْلَمْ اَنَّ النِّیَّةَ رُوْحٌ وَالْعِبَادَةُ جَسَدٌ وَلاَ حَیَاةَ لِلْجَسَدِ بِدُوْنِ الرُّوْحِ (جلد 1، صفحہ 83)۔ یعنی، جان لو کہ نیت روح ہے اور عبادت جسم ہے۔ اور روح کے بغیر جسم کی کوئی زندگی نہیں۔ اسرار الصلاۃ کے تحت لکھتے ہیں: اَحْسَنُ الصَّلٰوةِ مَا كَانَ جَامِعًا بَيْنَ الْاَوْضَاعِ الثَّلَاثَةِ مُتَرَقِّيًا مِنَ الْاَدْنٰى اِلٰى الْاَعْلٰى لِيَحْصُلَ التَّرَقِّى فِی اسْتِشْعَارِ الْخُضُوعِ وَالتَّذَلُّلِ (جلد 1، صفحہ 73) یعنی، بہترین نماز وہ ہے جس میں تینوں وضع جمع ہو جائے۔ جس میں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہو (قیام پھر رکوع پھر سجدہ) تاکہ خضوع اور تذلل کو محسوس کرنے کی طرف ترقی حاصل ہو سکے۔ اسرار الحج کے تحت لکھتے ہیں: رُبَّمَا يَشْتَاقُ الْإِنْسَانُ اِلٰى رَبِّهِ اَشَدَّ شَوْقٍ فَيَحْتَاجُ اِلٰى شَيْئٍ يَقْضِیْ بِهِ شَوْقَهُ فَلَا يَجِدُهُ اِلَّا الْحَجَّ (جلد 1، صفحہ 76-75) یعنی، کبھی انسان کے اندر اپنے رب کے لیے شدید شوق پیدا ہوتا ہے۔ پس وہ ایک ایسی چیز کا محتاج ہوتا ہے جس سے وہ اپنے شوق کو پورا کرے۔ اس وقت وہ حج کے سوا کوئی اور چیز نہیں پاتا جس سے وہ اپنے شوق کو پورا کرے۔ اسی قسم کی تشریحات پوری کتاب میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مگر اس قسم کی باتیں شریعت کی و واعظانہ تفہیم ہیں۔ وہ کسی بھی درجہ میں شریعت کی علمی اور عقلی وضاحت نہیں۔ جو لوگ اس کو عقلی وضاحت سمجھیں ان کے بارے میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ "عقلی وضاحت" کا مطلب نہیں جانتے۔ حجۃ اللہ البالغہ کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اس کتاب کے بارے میں میری رائے اور دوسرے علما کی رائے اتنی زیادہ مختلف کیوں ہے۔ آخر کار میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے علما اس کتاب کو قدیم کے معیار پر دیکھتے ہیں اور میں اس کو جدید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page