Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 269

By Maulana Wahiduddin Khan

استدلال کا معیار اصول استدلال کے سلسلہ میں مشہور غرناطی عالم الشاطبی نے ایک بہت بنیادی بات کہی ہے۔ وہ اپنی کتاب الموافقات فی اصول الاحکام میں علم الجدل کے قواعد بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کسی دعویٰ کے حق میں جب کوئی دلیل دی جائے تو ضروری ہے کہ مخاطب اس کا دلیل ہونا تسلیم کرتا ہو۔ اگر دلیل فریق ثانی کے نزدیک نزاعی ہو تو وہ اس کے نزدیک دلیل نہیں ہوگی۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا بے کار ہوگا، اس سے نہ کوئی فائدہ ملے گا اور نہ کوئی حاصل ہوگا ( وَکَانَ الدَّلِیلُ عِنْدَ الْخَصْمِ مُتَنَازَعاً فِیْهِ ، فَلَیْسَ عِنْدَهُ بِدَلِیْلِ ، فَصَارَ الْإِتْیَانُ بِه عَبَثْاً لَا یُفِیْدُ فَائِدَةً وَلَا یَحْصُلُ مَقصُوداً ) جلد 5 ، صفحہ 415۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دلیل وہ ہے جو مخاطب کے مسلمہ معیار کے مطابق ہو۔ جو دلیل کسی ایسی بنیاد پر قائم کی جائے جو مخاطب کے نزدیک مسلم نہ ہو وہ اس کے لیے دلیل بھی نہیں بن سکتی۔ چند مثالیں 1۔ ابن تیمیہ (1328-1263ء) اپنی بہت سی خصوصیات کے ساتھ متکلم بھی سمجھے جاتے ہیں۔ مگر ان کی اکثر دلیلیں الشاطبی کے مذکورہ معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ کم ازکم موجودہ زمانہ میں ان کی قیمت بہت کم ہوگئی ہے۔ ابن تیمیہ نے اپنی ایک کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے جسمانی معراج ہونے پر عقلی دلیل دی ہے۔ ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح نے اپنے جسم اور روح کے ساتھ آسمان کی طرف صعود کیا ( اِنَّ الْمَسِیْحَ صَعِدَ إِلَی السَّمَاءِ بِبَدَنِهِ وَرُوْحِهِ ) اسی طرح اہل کتاب کا عقیدہ ہے کہ الیاس نے اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف صعود کیا ( اِنَّ إِلْیَاسَ صَعِدَ إِلَی السَّمَاءِ بِبَدَنِهِ ) الْجَوَابُ الصَّحِیْحُ لِمَنْ بَدَّلَ دِیْنَ الْمَسِیْحَ ، جلد 4 ، صفحہ 170-169 )

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page