چند مثالیں
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
جسمانی معراج کی یہ دلیل کسی مخصوص مخاطب کے لیے جدلی یا الزامی طور پر دلیل بن سکتی ہے جو حضرت مسیح اور حضرت الیاس کے جسمانی صعود کا عقیدہ رکھتا ہو۔ مگر اصل مسئلہ جدلی یا الزامی دلیل کا نہیں ہے بلکہ علمی اور عقلی دلیل کا ہے۔ علمی اور عقلی دلیل وہ ہے جس کی بنیاد ایسے معلوم حقائق پر رکھی گئی ہو جو اہل علم کے یہاں عمومی طور پر تسلیم شدہ ہوں۔ چونکہ یہ کوئی علمی مسلمہ نہیں ہے کہ مسیح اور الیاس نے اپنے دنیوی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف صعود کیا اس لیے مذکورہ دلیل عقلی دلیل بھی نہیں۔ 2- جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت تھی۔ حتی کہ آپ مہر کے بغیر بھی کسی عورت کو اپنے نکاح میں لے سکتے تھے۔ اس کثرت ازواج پر "مخالفین کے اعتراض" کا جواب دیتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی (1949-1888) اپنی تفسیر قرآن میں لکھتے ہیں: " یہ اس اکمل البشر کی سیرت کا ذکر ہے جس نے خود اپنی نسبت فرمایا کہ مجھ کو جو جسمانی قوت عطا ہوئی ہے وہ اہل جنت میں سے چالیس مردوں کے برابر ہے جن میں سے ایک مرد کی قوت سو کے برابر ہوگی۔ گویا اس حساب سے دنیا کے چار ہزار مردوں کے برابر قوت حضور کو عطا فرمائی گئی تھی۔ اس حساب سے اگر فرض کیجئے چار ہزار بیویاں آپ کے نکاح میں ہوتیں تو آپ کی قوت کے اعتبار سے اس درجہ میں شمار کیا جا سکتا تھا جیسے ایک مرد ایک عورت سے نکاح کر لے۔ لیکن اللہ اکبر، اس شدید ریاضت اور ضبطِ نفس کا کیا ٹھکانا ہے کہ ترپن سال کی عمر زہد کی حالت میں گزار دی۔ پھر حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ سے عقد کیا۔ ان کے سوا آٹھ بیوائیں آپ کے نکاح میں آئیں۔ وفات کے بعد نو موجود تھیں۔ دنیا کا سب سے بڑا انسان جو اپنے فطری قوی کے لحاظ سے کم از کم چار ہزار بیویوں کا مستحق ہو، کیا نو کا عدد دیکھ کر کوئی انصاف پسند اس پر کثرت ازواج کا الزام لگا سکتا ہے (صفحہ 550)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader