الفصل بین القضیتین
Urdu book, p. 284
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں تھی۔ بلکہ وہاں مشرک ایرانیوں کا قبضہ تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 614ء میں ایرانی حکمراں خسرو پرویز نے یروشلم پر حملہ کیا اور اس کو رومیوں سے چھین لیا جو 63 ق م سے اس پر قابض چلے آرہے تھے۔ ایرانی سلطنت کا سیاسی قبضہ 629ء میں ختم ہوا جب کہ رومی حکمراں (Heraclius) نے ایرانیوں کو شکست دے کر دوبارہ یروشلم پر اپنا قبضہ بحال کیا۔ اس کا مطلبہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے قبل جس وقت اپنے سفر معراج میں یروشلم میں داخل ہوئے اور مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی اس وقت یروشلم پر ایک غیر مسلم بادشاہ خسرو پرویز کی حکومت تھی۔ اس سے یہ اہم سنت رسول معلوم ہوتی ہے کہ عبادت اور سیاست کو ایک دوسرے سے مختلط نہ کرنا چاہیے۔ 3- اس سنت نبوی کو تیسری مثال ہجرت کے بعد 629ء میں ملتی ہے۔ اس وقت مکہ مشرکین قریش کے قبضہ میں تھا۔ اس کے باوجود آپ اپنے اصحاب کے ساتھ تین دن کے لیے مکہ میں داخل ہوئے اور وہاں عمرہ کیا اور کعبہ کا طواف کیا۔ ایسا صرف اس لیے ممکن ہوا کہ آپ نے عبادتی معاملہ کو سیاسی معاملہ کے ساتھ مختلط نہیں کیا۔ اگر آپ اس شرط کو ضروری سمجھتے کہ عمرہ کی عبادت اسی وقت کی جاسکتی ہے جب کہ مکہ پر مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو چکا ہو تو آپ کبھی اپنے اصحاب کے ساتھ وہاں عمرہ کے لیے داخل نہ ہوتے۔ اس سنت رسول (اَلْفَصْلُ بَيْنَ الْقَضِيَّتَيْنِ) کی روشنی میں یروشلم کے موجودہ مسئلہ کا حل یہ ہے کہ یروشلم پر سیاسی قبضہ کے مسئلہ کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے کے سوال سے الگ کر دیا جائے۔ مسلمان خواہ فلسطین کے ہوں یا بیرونی ملکوں کے، وہ آزادانہ طور پر یہاں آکر مسجد اقصیٰ میں اللہ کے لیے عبادت کریں۔ عبادت کو سیاسی اقتدار کے ساتھ مشروط اور مخلوط نہ کیا جائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یروشلم کے مسئلہ کا واحد عملی حل یہ ہے کہ اس معاملہ میں اَلْفَصْلُ بَيْنَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader