Urdu book · فکر اسلامی

الفصل بین القضیتین

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

پڑھتے رہے ۔ اور آپ کے صحابہ بھی اسی طرح عمل کرتے رہے۔ 624ء کے آغاز میں قرآن میں یہ حکم اترا کہ اب تم لوگ کعبہ کو اپنا قبلہ عبادت بنا لو اور اسی طرف رخ کرکے تمام لوگ پنج وقتہ نمازیں ادا کرو (2:144)۔ جب قبلہ کی تبدیلی کا یہ حکم اترا تو اسی کے ساتھ قرآن میں یہ حکم بھی اتارا گیا کہ اے مسلمانو، تم لوگ نماز اور صبر سے مدد لو (2:153)۔ صبر کا ایک عام مفہوم ہے۔ مگر اس موقع پر صبر کا ایک خاص مفہوم بھی تھا۔ وہ یہ کہ جس وقت کعبہ کو قبلہ عبادت بنانے کا حکم اترا اس وقت کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ عملاً کعبہ اس وقت شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس طرح اہل ایمان کو ایک تکدر ہو سکتا تھا کہ ہم کیوں کر ایک موحدانہ عبادت کا قبلہ ایک ایسی عمارت کو بنائیں جو عملاً شرک اور بت پرستی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ حکم دیا گیا کہ اس پہلو کو صبر کے خانہ میں ڈال دو اور حکم کی تعمیل کرو۔ تاریخ کے مطابق ، یہ حالت پورے چھ سال یعنی فتح مکہ تک قائم رہی۔ تحویل قبلہ کے بعد سے چھ سال تک مسلمان اس حال میں کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے رہے کہ وہاں سیکڑوں بت موجود تھے اور وہ پوری طرح شرک کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ یہ صورتحال مکہ کی فتح کے بعد ختم ہوئی جب کہ بتوں کو کعبہ سے نکال دیا گیا۔ اس سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ اس اصول کو اَلْفَصْلُ بَيْنَ الْقَضِيَّتَيْنِ يا عَدَمُ الْخَلْطِ بَيْنَ الشَّيْئَيْنِ کہا جا سکتا ہے۔ اس اصول کے تحت کعبہ اور اصنام کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ اصنام کی موجودگی پر صبر کرتے ہوئے کعبہ کو قبلہ عبادت بنا لیا گیا۔ 2۔ اس سلسلہ میں دوسرا نمونہ اسراء اور معراج کے واقعہ میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام کا سفر معراج ہجرت سے پہلے غالباً 622 ء میں ہوا۔ اس وقت یروشلم پر مسلمانوں کی حکومت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page