Urdu book · فکر اسلامی

فکر اسلامی

Urdu book, p. 286

By Maulana Wahiduddin Khan

رک گئے۔ نئی حکمت نے کبھی انھیں یروشلم جانے سے نہیں روکا۔ بلکہ اپنے خود ساختہ تصور کے تحت انھوں نے بطور خود وہاں کا سفر کرنا ترک کر دیا۔ عمومی انطباق اوپر شریعت کا جو اصول (اَلْفَضْلُ بَيْنَ الْقَضِيَّتَيْنِ) بیان کیا گیا، اس کا تعلق صرف یروشلم یا بیت المقدّس سے نہیں ہے۔ وہ ایک عام شرعی اصول ہے اور وہ زندگی کے ہر نزاعی مسئلہ پر چسپاں ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس طرح اس شرعی اصول سے ناواقفیت کی بنا پر مسلمان مسلسل طور پر ایک عظیم نعمت (مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر وہاں نماز ادا کرنا) سے محروم ہو رہے ہیں۔ اسی طرح وسیع تر اجتماعی زندگی میں اس اصول کو ملحوظ نہ رکھنے کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں زبردست نقصان سے دو چار ہو رہے ہیں۔ جدید حالات نے مسلمانوں کے لیے ہر جگہ دینی اور دعوتی سرگرمیوں کے مواقع کھول دیے ہیں۔ مگر مسلمان ان قیمتی مواقع کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ اس کا واحد سب سے بڑا سبب الْفَضْلُ بَيْنَ الْقَضِيَّتَيْنِ کے شرعی اصول کو ملحوظ رکھنا ہے۔ اس اصول کا تقاضا تھا کہ مسلمان دینی پہلو اور سیاسی پہلو کو الگ الگ رکھتے۔ وہ سیاست کو اس کے مخصوص دائرہ میں رکھتے ہوئے دینی اور دعوتی امکانات کو بھر پور طور پر استعمال کرتے۔ مگر وہ ہر جگہ مکمل اسلامی انقلاب کے نام پر سیاسی حکمرانوں سے ٹکرا گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دور جدید کے بہترین امکانات استعمال ہونے سے رہ گئے اور مسلمانوں کے حصہ میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ آیا۔ مسلمانوں کے ایک طبقہ میں آج کل ایک جملہ بہت دہرایا جا رہا ہے: اَلْإِسْلَامُ دِينٌ وَدَوْلَةٌ (یعنی، اسلام مذہب بھی ہے اور حکومت بھی)۔ اسی پس منظر میں ایک بیرونی سفر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page