Urdu book · فکر اسلامی

عمومی انطباق

Urdu book, p. 287

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کچھ عرب نوجوانوں نے مجھ سے سوال کیا کہ مذہب اور حکومت کی علیحدگی کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے (مَا رَأۡيُکَ عَنِ الْفَصْلِ بَيْنَ الدِّيۡنِ وَالدَّوْلَةِ)۔ میں نے کہا: اَمَّا كَعَقِيدَةٍ فَلَا، وَاَمَّا كَضَرُورَةٍ عَمَلِيَّةٍ فَنَعَمۡ ۔ یعنی، عقیدہ کے طور پر تو دونوں میں کوئی فصل نہیں، مگر عملی ضرورت کے طور پر یقیناً دونوں میں فصل ہوتا ہے۔ عقیدہ یا نظریہ ہمیشہ آئیڈیلزم کے اصول پر بنایا جاتا ہے۔ مگر جہاں تک عملی کورس کا تعلق ہے وہ ہمیشہ وقت کے حالات و ضروریات کے تابع ہوتا ہے۔ یہ ایک عام اصول ہے جو کسی استثنا کے بغیر زندگی کے تمام معاملات سے متعلق ہے۔ اور اسی طرح اس کا تعلق اسلام سے بھی ہے۔ اعتقادی طور پر بلاشبہ اسلام میں مذہب اور سیاست دونوں شامل ہیں۔ مگر جب عمل کا منصوبہ بنانا ہو تو وقت کے حقیقی حالات کو ملحوظ رکھنا لازمی طور پر ضروری ہوگا۔ عقیدہ اور عمل کے اسی فرق کی بنا پر اسلام میں کسی قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کو حرام قرار دیا گیا ہے، خواہ وہ حکومت بظاہر غیر اسلامی ہو، اور خواہ اس کے خلاف سیاسی اقدام کرنے والے بظاہر اسلام کے دعاوی کو لے کر اٹھے ہوں۔ کیوں کہ عملی نتیجہ کے اعتبار سے اس قسم کا اقدام فتنہ اور ظلم میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ وہ اس کو ختم کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ یہ ناموافق عملی حالات مختلف قسم کے ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے کہ حکومت اتنی طاقت ور اور مستحکم ہو کہ دکھائی دیتا ہو کہ وہ اسلام کے علمبرداروں کو کچل ڈالے گی۔ حتیٰ کہ وہ ایسے انقلابیوں کی پیدائش کو روکنے کے لیے مسجد، مدرسہ، صحافت، تعلیمی نظام اور دوسرے تمام اداروں پر اپنا سخت کنٹرول قائم کر کے ملے ہوئے مواقع کا بھی خاتمہ کر دے گی۔ اس کا جو ظلم پہلے مخصوص دائرہ تک محدود تھا، وہ عمومی طور پر پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page