Urdu book · فکر اسلامی

عمومی انطباق

Urdu book, p. 290

By Maulana Wahiduddin Khan

اور حج کو عقیدہ کے اعتبار سے فرض سمجھے۔ مگر ان کی عملی ادائیگی کی ذمہ داری صرف اس شخص کے اوپر ہے جو اس کی عملی شرطوں پر پورا اترتا ہو۔ اس لیے اَلْفَصْلُ بَيْنَ الْقَضِيَّتَيْنِ کی حکمت سارے ہی دینی معاملات میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان ہر جگہ مصائب اور مشکلات کا شکار ہیں۔ وہ اس کی ذمہ داری دشمنانِ اسلام کے اوپر ڈال رہے ہیں جنھوں نے اپنی سازشوں کے ذریعہ انھیں اس حالت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے۔ حتی کہ وہ خود اسلام کی تردید ہے۔ کیوں کہ قرآن وحدیث کے مطابق، خدا اہل ایمان کا مددگار ہوتا ہے۔ پھر کیوں کر ایسا ممکن ہے کہ اہلِ کفر اہل اسلام کو اپنی سازشوں کا نشانہ بنائیں اور خدا اہل اسلام کی حمایت نہ کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان آج جن مشکل حالات میں گھر گئے ہیں وہ یقینی طور پر مصنوعی ہیں۔ یہ الفصل بین القضیتین کی سنت رسول کو ملحوظ نہ رکھنے کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے بطور خود یہ نظریہ بنایا کہ جب تک سیاسی اقتدار حاصل نہ ہو اس وقت تک دین پر بھی عمل نہیں ہو سکتا۔ اس غلط مفروضہ کی بنا پر ہر جگہ انھوں نے غیر ضروری طور پر سیاسی حکمرا نوں سے لڑائی چھیڑ دی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہترین دینی امکانات استعمال ہونے سے رہ گئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ مسلمانوں کا ترقی کا سفر رک گیا ہے۔ مسلمان آج یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا راستہ ہر طرف سے بند ہے۔ مگر اس دنیا میں کبھی کسی گروہ کے لیے راستہ بند نہیں ہوتا۔ البتہ بعض اوقات وہ گروہ خود اپنی نادانی سے اپنا راستہ بند کر لیتا ہے۔ یہی آج مسلمانوں کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ مسلمان مذکورہ سنتِ رسول پر عمل نہ کر سکے۔ انھوں نے دین کے معاملہ کو سیاسی اقتدار کے معاملہ سے الگ نہیں کیا۔ وہ ہر جگہ حکمراں طبقہ سے ٹکرا گئے ۔ کیوں کہ انھوں نے غلط طور پر یہ سمجھ لیا کہ جب تک اقتدار پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page