Urdu book · فکر اسلامی

عمومی انطباق

Urdu book, p. 289

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ حضرت علی نے جواب دیا: اِنَّ أَبَابَكْرٍ وَ عُمَرَ كَانَا وَالِيَيْنِ عَلَى مِثْلِي وَأَنَا وَالٍ عَلَى مِثْلِكُمْ ( تاریخ ابن خلدون، جلد 1، صفحہ 264 )۔ یعنی، ابو بکر و عمر میرے جیسے لوگوں کے اوپر حاکم تھے، میں تمہارے جیسے لوگوں کے اوپر حاکم ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ جیسے حکمران ہوں تب بھی ضروری ہے کہ معاشرہ میں امثال علی بڑی تعداد میں موجود ہوں۔ اگر معاشرہ میں ” علی “ جیسے افراد نہ ہوں تو صحابی کی حکومت کے باوجو د حقیقی معنوں میں کوئی بہتر نظام قائم کرنا ممکن نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دین اور حکومت دونوں اگر چہ اعتقادی طور پر ایک ہیں مگر عملی تقاضے کے تحت دونوں کو الگ الگ دیکھنا ہوتا ہے۔ ایک حصہ دین کا وہ ہے جس کی تعمیل فرد کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔ ایسے احکام ہر وقت ہر فرد پر فرض رہیں گے۔ افراد کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ہر حال میں اس کی تعمیل کریں۔ دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو عمل میں لانے کا انحصار اجتماعی حالات اور اجتماعی مرضی پر ہوتا ہے۔ احکام دین کے اس دوسرے حصہ میں پہلے اس کے موافق اجتماعی ارادہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ”اسلام میں دین اور سیاست ایک ہیں “ کا نعرہ لگا کر اگر کوئی شخص پہلے ہی مرحلہ میں اجتماعی قوانین کے نفاذ کی مہم چلائے۔ یا حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تاکہ وہ با اقتدار ہو کر اجتماعی قوانین کو نافذ کر سکے، تو ایسے اقدامات سراسر غیر اسلامی اور غیر مطلوب ہوں گے۔ ایسا ہر اقدام اپنے نتیجہ کے اعتبار سے فساد پیدا کرنا ہے، نہ کہ احکام اسلامی کا نفاذ کرنا۔ عقیدہ اور عمل میں برائے ضرورت تفریق کا یہ معاملہ کسی نہ کسی اعتبار سے سارے اسلامی احکام میں پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ زکوٰۃ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page