Urdu book · فکر اسلامی

عصرِ جدید کا مذہب

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

عصر جدید کا مذہب قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف وقتوں میں جو پیغمبر بھیجے وہ سب ان قوموں کی زبان میں کلام کرنے والے تھے جو کہ مخاطب کی زبان تھی تا کہ وہ ان سے اچھی طرح بیان کر دے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14: 4) ۔ لسان کے لفظی معنی زبان کے ہیں۔ مگر یہ لفظ متعلقات زبان کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال قرآن میں حضرت ابراہیمؑ کی یہ دعا ہے کہ : وَاجْعَلْ لِّي لِسَانًا صِدْقًا فِي الْآخِرِينَ (26: 84) ۔ یہاں "لسان" سادہ طور پر زبان کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ذکر یا قول کے معنی میں ہے۔ یعنی میرا ذکر خیر اگلی نسلوں میں جاری رہے۔ بالفاظ دیگر، یہ اس کلمہ حق کے بقاء واستمرار کی دعا تھی جو اللہ کی توفیق سے آپ کے ذریعہ ظاہر ہوا تھا۔ مذکورہ آیت میں "لسان" سے براہ راست طور پر زبان مراد ہے۔ مگر تو سیعی مفہوم کے اعتبار سے اس میں اسلوب بھی شامل ہے۔ یعنی خدا کے پیغمبروں نے اپنی قوموں سے انھیں کی زبان میں اور انھیں کے مانوس اسلوب میں کلام کیا۔ مخاطب افراد تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ داعی اور مدعو کی زبان ایک ہو۔ دعوت کو موثر اور قابل فہم بنانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پیغام کو اس اسلوب میں ڈھال کر پیش کیا جائے جس سے مخاطب مانوس ہے۔ جس کو وہ اپنے نزدیک اہمیت دیتا ہے اور جس کو قابل لحاظ سمجھتا ہے۔ اسلام فطرت کے ماحول میں شروع ہوا۔ دور اول کے مخاطبین کے لیے فطری دلائل ہی اس کی صحت کے اعتراف کے لیے کافی تھے۔ لاکھوں لوگ صرف قرآن کو سن کر اسلام میں داخل ہوگئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page