Urdu book · فکر اسلامی

عصرِ جدید کا مذہب

Urdu book, p. 293

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر عباسی خلافت تک پہنچنے کے بعد صورتحال بدل گئی۔ اس زمانہ کی متمدن دنیا میں یونانی علوم کا رواج تھا۔ پھر یونانی فلسفہ اور یونانی منطق کی کتابیں ترجمہ ہو کر ہر طرف پھیل گئیں ۔ اس کے بعد ایک نیا فکری چیلنج سامنے آیا۔ اب یہ کہا جانے لگا کہ فلسفہ اور منطق نے علمی غور و فکر کا جو معیار مقرر کیا ہے، اس پر اسلام کے عقائد پورے نہیں اترتے، اس وقت بڑے بڑے مسلم علما اٹھے۔ انھوں نے وقت کے علوم کا گہرامطالعہ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ الزام غلط ہے۔ انھوں نے دکھایا کہ اسلام ایک ابدی صداقت ہے، اور وہ فلسفہ اور منطق کے معیار پر بھی اپنی صداقت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان کوششوں کے نتیجہ میں ایک نیا علم، علم کلام کے نام سے وجود میں آیا۔ آٹھویں اور دسویں صدی عیسوی کے درمیان اس کے تحت تین بڑے مدارس فکر بنے۔ معتزلہ، اشعر یہ اور ماترید یہ۔ اسلام کی اس علمی شاخ کی تفصیل اور اس کی تاریخ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب الکلام ( دو جلد ) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ انیسویں صدی میں جدید سائنس کا غلبہ ہوا۔ اس کے بعد ایک نیا فکری چیلنج سامنے آیا۔ اب پھر یہ کہا جانے لگا کہ اسلام کی صداقت جدید سائنسی معیار پر پوری نہیں اترتی۔ دوبارہ کچھ اللہ کے بندے اٹھے جنہوں نے سائنسی دریافتوں کا گہرا مطالعہ کر کے بتایا کہ یہ دعویٰ غلط ہے اور اسلام اپنی ابدی صداقت کو بدستور زمانہ حال میں بھی باقی رکھے ہوئے ہے۔ اس معاملہ کی تفصیل راقم الحروف کی کتابوں ( مذہب اور جدید چیلنج ، وغیرہ ) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ بیسویں صدی کے آخر میں اب پھر اسلام ایک نئے چیلنج سے دوچار ہے۔ یہ چیلنج نہ منطقی ہے اور نہ سائنسی۔ یہ پچھلے تمام فکری چیلنجوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ چیلنج وہ ہے جو جدید جنگی ٹیکنالوجی کے بطن سے پیدا ہوا ہے۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد عام طور پر انسان نے یہ سمجھا کہ اس نے تعمیر دنیا کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page