تعارف مسئلہ
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
تعارف مسئلہ دورِ جدید میں مسلمانوں کے لیے جو مسائل پیدا ہوئے، ان میں سب سے پہلا اور سب سے اہم مسئلہ فکرِ اسلامی کی تشکیلِ جدید تھا۔ یعنی دورِ جدید کی واقعی نوعیت کو متعین کرنا اور پھر اسلام کے ساتھ اس کے مثبت یا منفی تعلق کو واضح کرنا۔ اس کام کی اولین اہمیت اس لیے تھی کہ اس کے بغیر دورِ جدید میں اسلامی عمل یا ملت کے احیاء نو کی جدوجہد صحیح اور مؤثر طور پر شروع ہی نہیں کی جاسکتی۔ مگر یہ کام بروقت نہ کیا جاسکتا۔ اس کا مہلک نقصان یہ ہوا کہ دورِ حاضر میں مسلمانوں کو اپنے عمل کا صحیح رخ (line of action) ہی نہیں ملا۔ مختلف سمتوں میں غیر متعلق کوششیں کرکے وہ اپنی حاصل شدہ طاقت کو ضائع کرتے رہے۔ اس غلطی کی غالباً ایک وجہ یہ تھی کہ مصر اور ترکی اور ہندوستان وغیرہ میں جو لوگ ابتداء اس کام کے لیے اٹھے وہ سب کے سب ریفارمسٹ تھے۔ وہ خود اسلام میں نظرثانی کی دعوت دے رہے تھے ۔ اس کا ایک نمونہ مسٹر فیضی (1981-1899) کی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے: A.A.A. Faizi, A Modern Approach to Islam یہ انداز اسلام کی روح کے مطابق نہ تھا، چنانچہ وہ ملتِ مسلمہ میں قبولیت حاصل نہ کر سکا۔ اس نوعیت کی تحریکیں صرف بحث و نزاع کا شکار ہو کر رہ گئیں۔ ریفارمیشن کی تحریک سولہویں صدی کے یورپ میں مسیحیت کے درمیان اٹھی۔ یہ اصلاحِ مذہب کی تحریک تھی۔ اس کے نتیجہ میں عیسائیوں میں ایک نیا فرقہ وجود میں آیا جس کو پروٹسٹنٹ کہا جاتا ہے۔ پروٹسٹنٹزم (Protestantism) کیا تھی۔ وہ دراصل منظم چرچ کے خلاف فطرتِ انسانی کی بغاوت تھی۔ کیتھولک سسٹم کے مطابق، ایک انسان کا ربط

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader