Urdu book · فکر اسلامی

تعارف مسئلہ

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا سے صرف چرچ کی معرفت قائم ہو سکتا تھا۔ جب کہ انسان چاہتا تھا کہ وہ اپنے خدا سے براہ راست مربوط ہو سکے۔ اس تضاد نے مسیحیت میں ریفارمیشن کی تحریک پیدا کی (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، 1984، جلد 15، صفحہ 99)۔ دوسرے تمام مذاہب میں بعد کو عملاً یہی صورت پیش آئی۔ مرور زمانہ سے ان میں تبدیلی اور تغیر واقع ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں یہ مذاہب اپنی اصل ابتدائی صورت پر باقی نہ رہے۔ وہ اپنی مروجَہ صورت کے اعتبار سے انسانی فطرت کے لیے غیر مطابق ہو گئے۔ اس عام تجربہ کی بنا پر جدید طبقہ کی طرف سے یہ مانگ شروع کر دی گئی کہ اسلام میں بھی ریفارم لاؤ، تا کہ اس کو بدلے ہوئے زمانہ کے مطابق بنایا جا سکے۔ مگر یہ قیاس مع الفارق ہے۔ دوسرے مذاہب تغیرات کا شکار ہونے کی وجہ سے اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔ اس بنا پر ان میں ریفارم کے عمل کی ضرورت پیش آتی ہے تا کہ ان کو بدلے ہوئے حالات کے مطابق بنایا جائے۔ مگر اسلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ اسلام ایک محفوظ مذہب ہے، وہ اب بھی اپنی اصل ابتدائی حالت پر باقی ہے۔ اس لیے اسلام ابدی قدر کا حامل ہے۔ اسلام اسی طرح ہر زمانہ میں اپنی معنویت کو برقرار رکھتا ہے جس طرح قدرت کے دوسرے قوانین ابدی طور پر اپنی معنویت کو مسلسل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اسلام آج بھی فطرت انسانی کے ساتھ اتنی ہی مطابقت رکھتا ہے جتنا کہ اول دن وہ اس سے مطابقت رکھتا تھا۔ مثال کے طور پر بعض مذاہب میں اونچی ذات (upper cast) اور نیچی ذات (lower cast) کا تصور پایا جاتا ہے۔ یہ فرق معاشی یا تعلیمی حالت پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ وہ پیدائش پر مبنی ہے۔ یعنی ان مذاہب کے روایتی عقیدہ کے مطابق، آدمی جنم ہی سے اونچا اور جنم ہی سے نیچا ہوتا ہے۔ ان مذاہب کے قوانین کے مطابق، نیچی ذات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page