Urdu book · فکر اسلامی

خلاف زمانہ تفکیر

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

رہے کہ قدیم زمانہ اگر النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُوكِهِم (لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر ہوتے ہیں) کا زمانہ تھا، تو موجودہ زمانہ النَّاسُ عَلَى دِينِ عَصْرِهِم (لوگ اپنے زمانہ کے دین پر ہوتے ہیں) کا زمانہ ہے۔ اب سیاسی حکمراں کی حیثیت ضمنی ہو کر رہ گئی ہے جو انتخابی جمہوریت کی وجہ سے عملاً صرف چند سال کے لیے حکومت میں آتا ہے، نہ کہ قدیم بادشاہوں کی طرح ساری عمر کے لیے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں دوسرے غیر سیاسی عوامل زیادہ فیصلہ کن حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔ اب اقتدار کی کنجیوں میں سے ایک کنجی صرف وقتی طور پر سیاسی حکمراں کے ہاتھ میں آتی ہے، اور بقیہ تمام کنجیوں پر دوسروں کا قبضہ مستقل طور پر باقی رہتا ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ہی کی طرح، ہمارے بیشتر علما اسی غلط فہمی میں مبتلا تھے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر سے لے کر بیسویں صدی کے نصف اول تک مغربی اقتدار کے خلاف ایک بے حد مہنگی جنگ لڑی گئی۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ ہندوستان سے اگر مغرب کا سیاسی اقتدار ختم ہو جائے تو اس کے بعد تمام مسلم ممالک آزاد ہو جائیں گے۔ موجودہ صدی کے وسط میں آزادی کا یہ نشانہ پورا ہو گیا۔ لیکن اب تمام علما اور دانشور اس شکایت اور احتجاج میں مشغول ہیں کہ مغرب نے مسلم دنیا کے اوپر اپنا خطرناک تہذیبی حملہ (cultural invasion) کر رکھا ہے۔ مگر احتجاج کی یہ مہم دراصل زمانہ جدید سے اپنی بے خبری کا اعلان ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارے علما اور رہنما یہ نہ جان سکے کہ موجودہ دور پچھلے تمام زمانوں سے بالکل مختلف ہے۔ اب جدید وسائل نے قوموں کو یہ موقع دے دیا ہے کہ اگر آپ انھیں خشکی سے نکالیں تو وہ سمندروں کے راستہ سے داخل ہو جائیں گے۔ اگر آپ انھیں اپنی زمین میں داخل نہ ہونے دیں تو وہ آسمان سے اپنا راستہ نکال لیں گے۔ اگر آپ ان سے سیاسی اقتدار کی کنجیاں چھین لیں تو وہ بہت سی دوسری کنجیاں پالیں گے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page