Urdu book · فکر اسلامی

خلاف زمانہ تفکیر

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

تبدیل کر سکیں۔ خود مولانا مودودی نے اپنی زندگی کے آخری بہترین سالوں میں پاکستان میں یہی کیا۔ وہ ”اقتدار کی کنجیاں “ چھینے میں سرگرم رہے، یہاں تک کہ 1979 ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ 1947 ء میں پاکستان پہنچ کر انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے پہلے لیاقت علی خاں سے اقتدار کی کنجیاں چھینے کی کوشش کی۔ اس کے بعد جنرل ایوب خاں سے اور پھر ذو الفقار علی بھٹو سے۔ مگر اس میں انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔ آخر میں ان کی زندگی ہی میں اقتدار کی کنجیاں ان کے ایک ہم فکر جنرل ضیاء الحق کے ہاتھ میں آگئیں، جن کے متعلق مولانا مودودی سے لے کر مولانا علی میاں تک تمام اسلام پسندوں نے گواہی دی کہ وہ ایک مرد صالح ہیں۔ مگر پاکستان کو دارالاسلام بنانے کا خواب بدستور بے تعبیر رہا۔ اس کے بعد مولانا مودودی کی جماعت کے اشتراک سے پاکستان میں ”اسلامی محاذ “ بنا۔ اس نے الیکشن میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور اقتدار کی کنجیاں پوری طرح اسلام پسند گروہ کے ہاتھ میں آگئیں۔ مگر اب بھی پاکستان کو دارالاسلام بنانا ممکن نہ ہو سکا۔ یہ شدید ناکامی اس لیے پیش آئی کہ یہ اسلام پسند لوگ صرف ماضی کی فقہ کے دائرہ میں سوچتے رہے۔ وہ جدید تبدیلیوں سے باخبر نہ ہو سکے ۔ ان لوگوں کا ذہن ، قدیم فقہا کی طرح ، اَلنَّاسُ عَلَی دِینِ مُلُوکِھِم کے دور میں بنا تھا۔ قدیم زمانہ میں ایک شخص (بادشاہ) کے ہاتھ میں اقتدار کی تمام کنجیاں ہوتی تھیں۔ جب کوئی چھینے والا اس سے اقتدار کی کنجیاں چھینے میں کامیاب ہوتا تو عین اسی وقت یہ کنجیاں ایک ہاتھ سے نکل کر مستقل طور پر دوسرے کے ہاتھ میں پہنچ جاتی تھیں۔ اس قدیم روایت کے تحت انھوں نے سب سے زیادہ سیاسی اقتدار کی کنجیاں چھینے پر زور دیا۔ لیکن دور جدید کی تبدیلیوں سے گہری واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے وہ یہ سمجھنے میں ناکام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page