Urdu book · فکر اسلامی

اجتہادی کوتاہی کے نتائج

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتہادی کوتاہی کے نتائج مجتہدانہ بصیرت سے خالی ہونے کا نقصان سب سے پہلے ملّت کو نو آبادیاتی نظام کے خلاف لڑائی میں بھگتنا پڑا۔ اصل صورت حال سے عدم واقفیت کے نتیجہ میں عرصہ تک یک طرفہ قربانی دی جاتی رہی، جب کہ ان قربانیوں کا کوئی بھی فائدہ ملت کے حصہ میں آنے والا نہ تھا۔ جس وقت مغربی استعمار کا مسئلہ پیدا ہوا، ساری دنیا کے مسلم علما پر روایتی اور تقلیدی ذہن چھایا ہوا تھا۔ چنانچہ جب مغربی قومیں مسلم دنیا میں داخل ہوئیں تو اس کو انھوں نے ویساہی ایک سیاسی داخلہ سمجھا جیسا سیاسی داخلہ اس سے پہلے بار بار مسلم دنیا میں پیش آیا تھا۔ وہ اپنے روایتی ذہن کے تحت اس کے سوا کچھ اور نہ سوچ سکے کہ ماضی کے مماثل واقعات کی طرح اس کو بھی محض سیاسی جارحیت کا ایک واقعہ سمجھیں ، اور دوبارہ اسی انداز کی دفاعی تدبیر اختیار کریں جو اس سے پہلے اس طرح کے مواقع پر اختیار کی گئی تھی۔ ہمارے علما اگر زمانہ کی تبدیلیوں سے واقف ہوتے اور مجتہدانہ بصیرت سے کام لے سکتے تو وہ کہتے کہ مغربی قوموں کا پیدا کردہ مسئلہ سادہ معنوں میں صرف سیاسی جارحیت (political aggression) کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک علمی اقدام (scientific advancement) کا مسئلہ ہے۔ اگر وہ بروقت اس راز کو جان لیتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ وقتی طور پر تم ان کی سیاسی بالا دستی کو گوارا کر لو، اور جن علوم کی طاقت سے وہ آگے بڑھ رہے ہیں، ان کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرو۔ یہ ٹھیک وہی تدبیر ہوتی جس کو اس سے پہلے خود ہمارے مقابلہ میں یورپ کی صلیبی قوموں نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کو قبول کر کے ان کے علوم کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page