اجتہادی کوتاہی کے نتائج
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
سیکھنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ان میں اضافہ کر کے خود تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی قوموں کا مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ٹکرانے کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ سیکھنے اور تیاری کرنے کا مسئلہ تھا۔ مگر مجتہدانہ صلاحیت سے محرومی کی بنا پر ہمارے علما مسلمانوں کو یہ رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ اگر ہمارے رہنما بروقت اس اجتہادی بصیرت کا ثبوت دیتے تو آج مسلم دنیا کی تاریخ اسی طرح عظمت کی تاریخ ہوتی جس طرح ماضی میں صلیبیوں کی تاریخ دوبارہ عظمت کی تاریخ بنی۔ اور جس کا ایک جدید نمونہ ہمیں جاپان کی صورت میں نظر آتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد 1945ء میں جاپان پر امریکہ کی سیاسی اور فوجی برتری قائم ہو گئی۔ مگر جاپان کے دانشور طبقہ نے فوری طور پر یہ جان لیا کہ امریکہ کی فوجی اور سیاسی بالادستی کسی "سازش" کا نتیجہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جاپان کے مقابلہ میں امریکہ نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرلی ہے اور جاپان اس اعتبار سے امریکہ سے پیچھے چلا گیا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے امریکہ کو یہ موقع دیا کہ وہ جاپان کو شکست دے کر اس پر قابض ہو جائے ۔ جاپان نے اس فکری رہنمائی کی روشنی میں امریکہ کی سیاسی اور فوجی بالادستی کو نظر انداز کیا اور اپنی ساری توجہ سائنسی تعلیم پر لگا دی۔ اس کا نتیجہ حیرت ناک طور پر جاپان کی موافقرت میں نکلا— نصف صدی سے بھی کم مدت میں مفتوح نے فاتح کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا۔ انیسویں صدی کے علما اگر مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہوتے تو وہ اپنے لحاظ سے اسی قسم کا کام کرتے جو صلیبیوں اور جاپانیوں نے اپنے لحاظ سے کیا۔ وہ جہاد کا فتویٰ دینے کے بجائے علم کا فتویٰ دیتے۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے قوم کو علمی تیاریوں کی طرف متوجہ کرتے۔ وہ دین کے ضروری تحفظ کے ساتھ تمام مسلم قوموں کو علوم جدیدہ کے حصول میں لگا دیتے ۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلتا اس کے بارے میں کسی فرضی قیاس کی ضرورت نہیں۔ اولاً

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader