تقلید کے نقصانات
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
(thrilling statement) تاریخ میں ثبت کر سکے کہ وہ لوگ جو مقدس کتاب کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرہ کو دیکھیں۔ وہاں وہ قرآن کی ان آیتوں کی شاندار تصدیق پالیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے متعلق ہیں: Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharaoh's body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo. (The Bible, the Quran, and Science, Maurice Bucaille, p.241) موجودہ زمانہ میں جب مہلک جنگی ہتھیار وجود میں آئے تو ساری دنیا میں جنگ کو برا سمجھا جانے لگا۔ تمام سنجیدہ لوگوں کی نظر میں جنگ ایک ناپسندیدہ چیز بن گئی۔ کیوں کہ جدید ہتھیاروں کے بعد جنگ اب صرف تباہی کی چیز بن چکی تھی۔ ایسے ماحول میں یہ کہا جانے لگا کہ اسلام اب نئے دور کے لیے غیر متعلق (irrelevant) ہو چکا ہے۔ دور جدید میں وہ کوئی تعمیری رول ادا نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اسلام کا انحصار جنگی طاقت پر ہے، اور جنگی طاقت میں اب سرے سے کوئی تعمیری رول ادا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔ اس نئے ماحول میں ضرورت تھی کہ اسلام کی امن کی طاقت کو دلائل وشواہد سے واضح کیا جائے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم ذہن صرف مدافعت کرنے میں مشغول رہے۔ انھوں نے اسلامی جنگ کے قوانین پر موٹی موٹی کتابیں لکھ ڈالیں۔ پہلا شخص جس نے اسلام کی امن کی طاقت، یا دوسرے لفظوں میں، اسلام کی دعوتی طاقت کو منظم اور مدلل انداز میں پیش کیا، وہ ایک عیسائی اسکالر ڈاکٹر ٹی ڈبلیو آرنلڈ (1864-1930) تھے۔ انھوں نے لمبی محنت کے بعد 1896ء میں اپنی کتاب دعوتِ اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader