Urdu book · فکر اسلامی

تقلید کے نقصانات

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

اس آیت میں ایک حتمی اعلان تھا کہ فرعون کا جسم معجزاتی طور پر محفوظ رکھا جائے گا، تا کہ اہل اسلام اس کو استعمال کرکے بعد کی انسانی نسلوں کے سامنے کتاب الہی کی صداقت کا اظہار کر سکیں۔ یہ علمی خزانہ مصر کے اہرام میں محفوظ تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ مصری علما صرف اتنا ہی جان سکے کہ یہ بلند اہرام لعنتہ الفراعنہ کے حامل ہیں۔ صدیوں پر صدیاں گزرتی چلی گئیں اور کسی بھی مسلم عالم کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ خدا کی اس چھپی ہوئی نشانی سے پردہ اٹھائے اور قرآن کی ایک ناقابل انکار صداقت کے طور پر اس کو دنیا کے سامنے پیش کرے۔ سب سے پہلے ایک فرانسیسی اسکالر پروفیسر لاریٹ (1859-1946 ,Victor Loret) نے 1898ء میں فرعون کے اس محفوظ جسم کو اہرام کے اندر سے نکالا۔ پھر اس ممی کیے ہوئے جسم کو لاکر قاہرہ کے میوزیم میں رکھا گیا۔ اس کے بعد پہلی بار 8 جولائی 1907ء کو پروفیسر الیٹ اسمھ (1871-1937 ,Sir Grafton Elliot Smith) نے اس جسم کے غلاف کو کھول کر اس کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور پھر وہ کتاب لکھی جو حسب ذیل نام سے مشہور ہے: The Royal Mummies 1912 یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی پہلا شخص جس نے اس دریافت شدہ مواد کو صداقت اسلام کے لیے استعمال کیا وہ صرف ایک فرانسیسی عالم ڈاکٹر موریس بکائی تھا۔ وہ جون 1975ء میں قاہرہ گیا۔ وہاں اس نے براہ راست طور پر میوزیم میں اس کا مطالعہ کیا۔ حتیٰ کہ اس معاملہ کی کامل تحقیق کے لیے اس نے عربی زبان سیکھی، تاکہ قرآن میں موسیٰ اور فرعون کے قصہ کو براہ راست مطالعہ سے سمجھ سکے۔ ان سب کے بعد اس نے اپنی شاہکار تصنیف فرانسیسی زبان میں لکھی۔ جس کا ترجمہ اب مختلف عالمی زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی پیشین گوئی کو واقعاتی طور پر ثابت کرنے والا صرف ایک فرانسیسی عالم تھا۔ اسی کو یہ توفیق ملی کہ وہ اس کی بابت یہ پُر اہتزاز بیان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page