فکر اسلامی
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح البخاری (کتاب الجہاد) میں یہ روایت ہے کہ اللہ فاجر شخص کے ذریعہ بھی اس دین کی مدد کرے گا (إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062۔ مذکورہ تائیدی واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے جب میں اس حدیثِ رسول پر غور کرتا ہوں تو میری سمجھ میں آتا ہے کہ رجل فاجر کے اندر اگر اجتہادی اسپہرٹ ہو تو وہ بڑے بڑے تخلیقی کام انجام دے گا۔ اور رجل مومن اگر اجتہادی اسپہرٹ سے خالی ہو جائے تو اس دنیا میں وہ کوئی بھی بڑا کام نہیں کر سکتا، خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو سرتاج انسانیت اور امام قافلہ بشری ہی کیوں نہ سمجھ رہا ہو۔ پیغمبرِ اسلام کی سنتیں دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کتابی صورت میں مدون کیے گئے تو اس وقت کے علما نے کچھ چیزوں کو ”سنن“ کے ابواب کے تحت درج کیا اور کچھ چیزوں کو دوسرے عنوانات کے تحت اپنی کتابوں میں جمع کر دیا۔ قدرتی طور پر یہی کتابیں بعد کو دین کا ماخذ بن گئیں۔ لوگوں نے ان کتابوں میں جن چیزوں کو سنت کے نام سے پڑھا ان کو سنت سمجھا۔ اور جن چیزوں کو ان کتابوں میں بطورِ سنت درج نہیں کیا گیا تھا ان کو شعوری طور پر فہرستِ سنت سے خارج سمجھ لیا۔ اس طرح داڑھی اور ازار اور مسواک جیسی چیزوں کو تو سنت سمجھا جانے لگا۔ اور دوسری بہت سی چیزیں ان کے ذہن میں سنت کی حیثیت سے جگہ نہ پاسکیں، حالاں کہ وہ بھی بلاشبہ سنت رسول تھیں۔ بعد کو جب کھلے ذہن سے سوچنے کا ذوق ختم ہو گیا اور تقلیدی ذہن ہی تمام لوگوں کے اوپر چھا گیا تو یہ غلطی مزید پختہ ہو کر عوام و خواص کے ذہنوں پر چھا گئی۔ یہاں اس نوعیت کی چند سنتیں بطور مثال درج کی جاتی ہیں۔ جو اگرچہ سنت ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader