Urdu book · فکر اسلامی

پیغمبر اسلام کی سنتیں

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

اور نہایت اہم سنت ہیں۔ مگر قدیم کتابوں میں بطور سنت درج نہ ہونے کی بنا پر عملاً وہ ہماری فہرست سنت سے خارج ہو گئی ہیں۔ 1۔ صحیح البخاری میں ایک باب ہے جس کے الفاظ ہیں "بَابُ فَضْلِ مَكَّةَ وَبُنْيَانِهَا" یعنی، مکہ کی فضیلت کا اور اس کی تعمیر کا باب۔ اس باب کے تحت حضرت عائشہ کی روایت نقل کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں ایک بار کعبہ کی دیواریں گر گئیں۔ اس کے بعد مشرکین نے کعبہ کی عمارت کو دوبارہ بنایا۔ حضرت ابراہیم کا بنایا ہوا کعبہ لمبا تھا۔ مگر مشرکین کے پاس چونکہ سامان کم تھا، انھوں نے نئی تعمیر میں کعبہ کو چو کور کر دیا۔ اور اس کا ایک حصہ خالی چھوڑ دیا جو اب حطیم کہا جاتا ہے۔ روایت بتاتی ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (فتح مکہ کے بعد) کہا کہ اے خدا کے رسول ، آپ کیوں نہیں اس کو دوبارہ ابراہیمی اساس کی طرف لوٹا دیتے ۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ تمھاری قوم ابھی جلد ہی جاہلیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہوئی ہے۔ اگر میں ایسا کروں تو مجھے ڈر ہے کہ وہ ان کے دلوں میں ناگواری پیدا کرے (فَأَخَافَ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1584۔ موجودہ فہرست بندی میں ایک قاری اس روایت کو پڑھے گا تو وہ اس کو فضیلت مکہ یا قصہ کعبہ کے خانہ میں ڈال کر آگے بڑھ جائے گا۔ اس سے وہ اپنی زندگی کے لیے کوئی رہنمائی نہیں لے سکے گا۔ حالانکہ اس روایت میں ایک عظیم حکمت اور عظیم رہنمائی موجود ہے۔ اس پیغمبرانہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں آدمی کو آئیڈیل کے بجائے پریکٹیکل کو دیکھنا چاہئے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ وہ سچے اہل ایمان کے ساتھ معاملہ کر رہا ہو جیسا کہ اصحاب رسول تھے۔ اجتماعی زندگی میں معاملہ کرتے ہوئے بار بار ایسا پیش آتا ہے کہ ایک صورت وہ ہوتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page