حدیث رسول
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
میں سے کسی کا روزہ کا دن ہو تو وہ نہ فحش بات کہے اور نہ شور کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو برا کہے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ جواب دے کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں ۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَّ احْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (بخاری ومسلم) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایمان کے ساتھ اور ثواب آخرت کے لیے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ اور جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب آخرت کے لیے رمضان کی راتوں میں قیام کرے تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ 28 عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَّا عَجَّلُوا الْفِطْرَ (بخاری) سهل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ خیر پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے ۔ 29 عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ (البخاری) انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ہوتے تھے۔ پس روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے پر کوئی عیب نہ لگاتا اور نہ روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو کچھ کہتا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader