Urdu book · حل یہاں ہے

بنیادی بات

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

بنیادی بات قرآن میں ارشاد ہو اہے کہ تم کو جو بھی دکھ پیش آتا ہے وہ خود تمھارے سبب سے ہوتا ہے روما اصابك من سيئة فمن نفسك ، النساء ٩) ، دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ تم کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ خود تمھارے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے پہنچتی ہے روما اصابكم من مصيبة فيما كسبت ايديكم، الشوریٰ (۳۰) اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کسی کو دوسرے کے اوپر کوئی اختیار نہیں۔ یہاں ہر آدمی یا ہر گر وہ خود اپنے ہی عمل کا انجام بھگتنا ہے۔ آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت پڑے تو اس کو چاہئے کہ اس کا سبب وہ باہر نہ تلاش کرے۔ بلکہ خود اپنے اندر ڈھونڈ کر نکالے۔ کیوں کہ اس کا سبب یقینی طور پر خود اس کے اپنے اندر موجود ہوگا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی دو واضح مثالیں موجود ہیں۔ ایک غزوہ احد (۳ھ) کی شکست اور دوسرے غزوہ حنین (۸ھ) میں پیش آنے والا زبردست نقصان۔ قرآن میں ان دونوں غزوات کا ذکر ہے اور دونوں میں یہ انداز ہے کہ اسلام دشمنوں کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے خود مسلمانوں پر اس کی پوری ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ احد کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ تمہاری کمزوری، تمہارا آپس کا اختلاف اور تمہارا مرکزی قیادت کی نافرمانی کرنا، یہ اسباب تھے جنھوں نے تم کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست سے دوچار کیا (آل عمران (۱۵۲) اسی طرح حنین کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ اس موقع پر تم کو جس بربادی سے سابقہ پیش آیا اس کی وجہ یہ تھی کہ تمھارے اندر گھمنڈ پیدا ہو گیا۔ یہاں بھی سبب مسلمانوں کے اپنے اندر بتایا گیا کہ ان کے باہر (التوبہ ۲۵) ان دونوں حادثات میں پوری طرح یہ ممکن تھا کہ ان کی ساری ذمہ داری قریش پر ڈالی جاتے اور ان کو یک طرفہ طور پر برا بھلا کہا جائے ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جب ان حادثات پر تبصرہ کیا تو ان کی ساری ذمہ داری صرف مسلمانوں کے اوپر ڈال دی۔ یہ مثال ہمیشہ کے لئے بتا رہی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں مسلمانوں کا ذہن کیا ہو نا چاہئے ۔ یہ کہ وہ دوسروں کی سازشوں کا انکشاف کرنے کے بجائے خود اپنا احتساب کریں۔ وہ اپنی کمزوریوں کو دور کر کے اپنے حریف کے اوپر فتح حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page