Urdu book · حل یہاں ہے

یک طرفہ کارروائی کی ضرورت

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

اب ان کے اندر یہ طاقت باقی نہیں رہی کہ وہ چھوٹی چھوٹی ناگواریوں کو بھلا دیں تاکہ وہ بڑے نشانہ کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھ سکیں۔ ہندوستان کے فسادات مسلمانوں کے دینی بگاڑ کی قیمت ہیں۔ خدا کا بھیجا ہو ادین اگرچہ ایک ہے مگر مسلمانوں کی عملی زندگی میں آکر اسلام کی دو قسمیں بن جاتی ہیں۔ ایک فخر والا اسلام۔ دوسرا تواضع والا اسلام۔ دینی بگاڑ دراصل اسی فخر والے اسلام کا دوسرا نام ہے۔ مسلمان جب سچے اسلام پر ہوتے ہیں تو ان کے اندر تواضع والا اسلام پرورش پاتا ہے۔ اللہ کا ڈر ان سے بڑائی کا مزاج چھین لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر قسم کے غیر ضروری ٹکراؤ اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں۔ دوسری قومیں جب قرآن کے الفاظ ہیں، جمیہ جاہلیہ کا مظاہرہ کرتی ہیں تو ان کا تقویٰ انھیں سراپا تواضع بنا دیتا ہے۔ حمیت جاہلیہ کی آگ کے لئے مسلمانوں کا تقویٰ پانی کا کام کرتا ہے اور فساد ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب مسلمانوں کے اندر سے تقویٰ رخصت ہو جائے تو ان کے اندر فخر والا دین ابھرتا ہے۔ فخر والا اسلام آدمی کے اندر بڑائی کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ اسی نفسیات کا نتیجہ وہ تمام اختلافات ہیں جو آج مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں۔ جب ہر آدمی اپنے کو بڑا سمجھنے لگے تو اتحاد ممکن نہیں۔ اتحاد کا واحد راز یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی ہو جائیں۔ مگر جہاں ہر آدمی اپنے کو بڑا سمجھ رہا ہو وہاں اتحاد کیسے پیدا ہوگا۔ یہی فخر اور بڑائی کی نفسییات حب دوسری قوموں کے مقابلہ میں آتی ہے تو وہ فساد کا سبب بن جاتی ہے۔ دوسری قوموں کے لئے ان کا مذہب یا ان کی قومی تہذیب ہمیشہ فخر ہی کی چیز ہوتی ہے۔ اب اگر مسلمانوں کے لئے بھی ان کا دین فخر کی چیز بن جائے تو دونوں کا نباہ مشکل ہو جائے گا۔ کیوں کہ دو فخر کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ آپ آگ کو پانی سے ٹھنڈا کر سکتے ہیں مگر آگ کو آگ سے ٹھنڈا نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں سے اگر باہمی اختلاف اور دوسری قوموں سے فساد کو ختم کرنا ہے تو مسلمانوں کے اندر سے فخر والا اسلام ختم کرنا ہوگا۔ اور اس کے بجائے ان کے اندر تواضع والا اسلام لانا ہوگا۔ اگر مسلمان اس پر راضی نہیں ہیں تو انھیں دوسروں کو ملزم ٹھہرانے کا سلسلہ بھی ختم کر دینا چاہئے کیوں کہ دوسروں کی طرف سے ان کے ساتھ جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ اسی بگڑے ہوئے دین کی قیمت ہے جس پر وہ اپنے دور زوال میں آج قائم ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page