قدرت کا سبق
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
دشمن کی زد سے اپنے کو بچا لیتا ہے۔ ۵۔ ایک بہت چھوٹا کیڑا ہے۔ وہ اپنے حریف کیڑے کو ختم کرنے کے لئے بہت دلچسپ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنے حریف کیڑے کے جسم میں اپنا ڈنک چھپاتا ہے جو انجکشن کی سوئی کی مانند ہوتا ہے یعنی نکلیلا اور اندر سے سوراخ دار۔ وہ نہایت پھرتی سے اپنے بے دھڑ چھوٹے انڈے کو اس کے جسم میں داخل کر دیتا ہے۔ یہ انڈا جو دراصل زندہ بچے کی ابتدائی صورت ہوتی ہے، اپنے میزبان جانور کے جسم کا اندرونی حصہ کھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ لاروا (چھوٹے بچہ) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اب یہ لاروا باہر نکلنے کے لئے زور کرتا ہے۔ میزبان جانور کے لئے یہ سخت ترین لمحہ ہوتا ہے مگر وہ ایک ایسے دشمن کے مقابلے میں اپنے کو بے بس پاتا ہے جو خود اس کے پیٹے میں گھسا ہوا ہو۔ اس طرح لاروا زور کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان جانور کے جسم کو پھاڑ کر باہر آ جاتا ہے۔ یہ عمل اتنا شدید ہوتا ہے کہ اس کے بعد میزبان جانور کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ قدرت کے تربیت یافتہ حیوانات میں بچاؤ کے جو طریقے رائج ہیں وہی انسان کے لئے بھی پوری طرح کار آمد ہیں۔ انسان کے لئے بھی اپنے حریف کے مقابلہ میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ وہ براہ راست تصادم سے بچے اور کتر کر نکلنے کی کوشش کرے۔ حریف کو کبھی یہ محسوس کرنے کا موقع نہ دیا جائے کہ آپ اس کے دائرہ میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اگر حریف کا سامنا ہو جائے تو اس کے مقابلہ میں اپنے کو غیر فعال ظاہر کر کے اپنے کو اس کی زد سے ہٹا لیا جائے یا اپنے دائرہ میں سمٹ کر اس کو یہ احساس دلایا جائے کہ میری وجہ سے تمھارا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں۔ اسی کے ساتھ ایسی تدبیروں کا اہتمام کیا جائے جن کے ذریعہ ہنگامی حالات میں دشمن کا وار خالی دیا جا سکے۔ اور اگر حریف کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہو تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ حریف کے اپنے ”جسم“ میں اس کا ایک ”عدو“ داخل کر دیا جائے جس کی غذا حریف کا جسم ہو۔ وہ اس کو خاموشی کے ساتھ کھاتا رہے، یہاں تک کہ اندر ہی اندر دشمن کا خاتمہ کر دے۔ جانوروں نے اپنے بچاؤ کے یہ اصول خود نہیں بنائے، وہ ان کو خدا نے سکھائے ہیں۔ ان طریقوں کو خداوندی تصدیق حاصل ہے۔ پھر یہ کہ جانوروں کی دنیا میں اس قسم کی دفاعی تدبیریں کسی ”بزدلی“ کی بنا پر نہیں ہیں بلکہ خالص حقیقت پسندی کی بنا پر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچ کر اپنی ”خود تعمیری“ کے عمل کو جاری رکھا جائے‘ کوئی جانور چارہ کی تلاش میں جا رہا ہے۔ کوئی اپنے جوڑے سے ملنے کے لئے سفر کر رہا ہے۔ کوئی اپنا گھر بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ کسی کو اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے لئے موقع درکار ہے۔ ایسی حالت میں اس کی اپنے دشمن سے مڈبھیڑ ہو جاتی ہے۔ اب اگر جانور اپنے حریف سے لڑائی شروع کر دے تو اس کا اپنی تعمیر کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جانور حریف کے براہ راست تصادم سے گریز کرتا ہے، الا یہ کہ مجبوراً اس میں گرفت رہ جائے۔ وہ اپنے تعمیری کام کو جاری رکھنے کی خاطر تصادم سے بچ کر نکل جاتا ہے۔ یہ طریقہ جو حیوانات جبلت کے تحت اختیار کرتے ہیں وہی انسان کو شعوری طور پر انجام دینا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader