قرآنی حل
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
جاہلیت کے مقابلہ میں مسلمان بھی حمیت جاہلیہ پر اتر آتے ہیں۔ اس سے کش مکش بڑھتی ہے اور بالآخر فساد ظہور میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر مراد آباد کا فساد (۱۹۸۰) اس طرح شروع ہوا کہ غیر مسلم حضرات کی شادی کا جلوس گانے بجاتے ایک سڑک سے گزر رہا تھا جس پر ایک مسجد واقع تھی۔ مسلمان مسجد سے نکل کر جلوس کی راہ میں مزاحم ہو گئے انہوں نے کہا کہ اس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اس لئے تم لوگ دوسرے راستے سے اپنا جلوس لے جاؤ۔ غیر مسلم حضرات اس پر تیار نہیں ہوئے۔ یہ ضد یہاں تک بڑھی کہ مار پیٹ کی نوبت آگئی اور بالآخر زہر دست فساد پھوٹ پڑا۔ مسلمانوں کی یہ روش یقینی طور پر حمیت جاہلیہ کے مقابلہ میں جوابی حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ تھا۔ اگر مسلمان قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلتے تو یقیناً وہ جوابی حمیت کا مظاہرہ نہ کرتے۔ اور اس کے بعد اس حادثہ کی نوبت ہی نہ آتی جس نے مراد آباد کو فساد کی آگ میں جلا ڈالا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے۔ ناپاک کبھی ناپاک کو نہیں مٹا سکتا ( ان اللہ لا يمحو السيئ بالسئى ولكن يمحو السيئ بالحسن ان الحنيث لا يمحو الحنيث، احمد) اس حدیث میں ایک خداوندی اصول بیان کیا گیا ہے۔ اسی اصول پر پوری دنیا کا نظام قائم ہے۔ یہاں ہر برائی کو بھلائی سے ختم کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ساری دنیا صرف چند روز میں گندگی کا عظیم کوڑا خانہ بن کر رہ جائے ۔ مگر آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ برائی کو برائی سے مٹانے پر کمر بستہ ہیں۔ وہ اشتعال کو جوابی اشتعال کے ذریعہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک نفرت کو دوسری نفرت سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ وہ رقابت کا توڑ رقابت کے ذریعہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ قومی عصبیت کا علاج قومی عصبیت کے ذریعے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر یہ قانون خداوندی کے سراسر خلاف ہے۔ ایسا کوئی منصوبہ موجودہ دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر مسلمانوں کو اپنی اس تدبیر پر اصرار ہے تو ان کو اپنی مرضی کے مطابق ایک اور دنیا بنانی پڑے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ کبھی اس طرح کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader